قم، شہید علی ناصر صفوی کی برسی کے موقع پر محفل مشاعرہ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
شرکا سے مجلس وحدت مسلمین کے شعبہ امور خارجہ کے مسئول حجت الاسلام و المسلمین علامہ شفقت حسین شیرازی نے گفتگو کی۔ اسلام ٹائمز۔ بقیۃ اللہ اسلامک انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام قم المقدس میں امریکی استعمار کے ہاتھوں شہید ہونیوالے مقاومت اسلامی کے اہم کمانڈر شہید علی ناصر صفوی اور ان کے ساتھ شہید ہونیوالی ان کی زوجہ شہیدہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے محفل مشاعرہ منعقد ہوئی۔ محفل مشاعرہ میں شعرائے کرام نے اپنا کلام پیش کیا۔ شرکا سے مجلس وحدت مسلمین کے شعبہ امور خارجہ کے مسئول حجت الاسلام و المسلمین علامہ شفقت حسین شیرازی نے گفتگو کی۔ انہوں نے گفتگو میں کہا کہ عالمی استعمار نے 80 کی دہائی میں مسئلہ فلسطین سے توجہ ہٹانے کے لئے پورے عالم اسلام میں سازشیں پروان چڑھائیں، شہید علی ناصر صفوی اور ان کے باصفا ساتھیوں نے نہایت قلیل افراد پر مشتمل گروہ ہونے کے باوجود شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی سرپرستی میں سرزمین اسلامی مملکت خداداد پاکستان پر استعماری ہتھکنڈوں کو بے جگری سے ناکام بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بے شک لوگ ان باتقوی مخلصین کی حیات طیبہ اور بے مثال کارناموں سے پوری طرح آشنا نہ ہو سکیں گے لیکن ان کا مشن ہمیشہ جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔