Express News:
2026-07-24@01:06:50 GMT

ایم کیو ایم کا لیاقت علی خان کی برسی پر عام تعطیل کا مطالبہ

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

کراچی:

ایم کیو ایم پاکستان نے ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی برسی کے موقع پر صوبے بھر میں عام تعطیل کا مطالبہ کر دیا۔

 اس سلسلے میں ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ اسمبلی میں باقاعدہ قرارداد جمع کرا دی گئی ہے۔ قرارداد سندھ اسمبلی کے قواعد و ضوابط 203 کے سیکشن 124 کے تحت جمع کرائی گئی۔

قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شہید لیاقت علی خان ملک کے پہلے وزیراعظم تھے، یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ انکی برسی پر عام تعطیل کی جائے۔

ایم کیو ایم نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ قرارداد کو منظور کرتے ہوئے برسی کے دن صوبے میں عام تعطیل کا اعلان کیا جائے۔

واضح رہے کہ قائد ملت لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر 1951 کو ایک جلسے کے دوران گولیاں مار کر شہید کردیا گیا تھا۔

پاکستان کے پہلے وزیراعظم اور تحریک پاکستان کے نامور رہنما کا شمار قائد اعظم کے قریبی رفقا اور جدوجہد آزادی کے مرکزی رہنماؤں میں کیا جاتا ہے، لیاقت علی خان کو انکی سیاسی بصیرت اور اصول پسندی کے باعث "قائد ملت" کا خطاب بھی دیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: لیاقت علی خان ایم کیو ایم عام تعطیل ایم کی

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی