ڈسکورنگ ڈائبٹیز اور بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائبٹالوجی اینڈ انڈوکرائنالوجی کے درمیان معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ذیابطیس کے بڑھتے کیسز اور ڈائیبیٹک فٹ سے پاؤں کٹنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے ڈسکورنگ ڈائبٹیز اور بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائبٹالوجی اینڈ انڈوکرائنالوجی (BIIDE) کے درمیان اہم معاہدہ طے پا گیا۔
معاہدے کی تقریب میں ڈائریکٹر بائیڈ ڈاکٹر زاہد میاں، ڈاکٹر سیف الحق، ڈسکورنگ ڈائبٹیز کے عبدالصمد اور محمد محسن جبکہ بائیونکس کے انس ریاض شریک ہوئے۔
ڈاکٹر زاہد میاں نے کہا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ذیابطیس تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ملک میں اس وقت ساڑھے تین کروڑ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں، جن میں سے 25 سے 30 فیصد کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں۔
ڈاکٹر زاہد میاں نے بتایا کہ پاکستان میں ساڑھے آٹھ کروڑ افراد ڈس گلائیسیمیا کا شکار ہیں جبکہ پیچیدگیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جن میں بینائی، گردوں کے مسائل، دل کی بیماریاں اور ڈائیبیٹک فٹ نمایاں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاؤں میں سن ہونے اور زخم بڑھنے پر توجہ نہ دینے سے پاؤں کٹنے تک نوبت آ جاتی ہے، جو نہ صرف مریض بلکہ پورے خاندان کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت علاج سے 80 فیصد کیسز میں ٹانگیں بچائی جا سکتی ہیں۔
ڈسکورنگ ڈائبٹیز نے اعلان کیا کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی “ڈایا بوٹ” ایپ میں ڈائیبیٹک فٹ سے متعلق سوالات شامل کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے ایسے افراد تک بھی پہنچا جا سکے گا جو اسپتال نہیں آ پاتے۔ اس ایپ کے ذریعے پاؤں کے زخموں کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔
عبدالصمد نے کہا کہ 35 لاکھ افراد پاؤں کٹنے کے خطرے سے دوچار ہیں اور ڈایا بوٹ کے ذریعے ایسے مریضوں کو بائیڈ سے منسلک کیا جائے گا۔ انہوں نے ڈائیبیٹک فٹ کے حوالے سے قومی سطح پر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر سیف الحق نے کہا کہ پاکستان کا پورا صحت کا بجٹ بھی اس وبا پر قابو نہیں پا سکتا، اس لیے احتیاط اور آگاہی ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ آئندہ نسل کو صحت مند مستقبل دیا جا سکے۔
بائیونکس کے انس ریاض نے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مقامی سطح پر کم لاگت میں مصنوعی اعضاء فراہم کیے جا رہے ہیں، جس سے مریضوں کی بحالی کے امکانات بہتر ہو رہے ہیں۔
محمد محسن کا کہنا تھا کہ دس فیصد ایسے افراد ہیں جن کی ٹانگیں بروقت علاج سے بآسانی بچائی جا سکتی ہیں، اور ایپ کے ذریعے ایسے مریضوں تک جلد رسائی ممکن ہو گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈسکورنگ ڈائبٹیز نے کہا کہ کے ذریعے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔