پی ٹی آئی نے اپنی ہی روایات کا بوجھ اٹھایا ہے، رونا دھونا نہیں چلے گا، وزیراعلیٰ پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج جس طرزِ سیاست پر شور مچا رہی ہے، وہی روایت دراصل اسی نے برسوں میں تشکیل دی تھی، اس لیے اب احتجاجی بیانیہ عوام کو متاثر نہیں کر رہا۔
منعقدہ ایک تقریب سے نومنتخب ارکانِ اسمبلی کے خطاب میں انہوں نے پی ٹی آئی کی انتخابی حکمت عملی، طرزِ سیاست اور گزشتہ دورِ حکومت کے رویّے پر سخت تنقید کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کے حالیہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی نے منافقت کی اعلیٰ مثال قائم کی، اگر پی ٹی آئی کسی نشست پر ہار جاتی ہے تو فوراً بائیکاٹ کا جواز گھڑ لیتی ہے اور اگر کہیں کامیابی مل جائے تو اسی بائیکاٹ کو اپنی طاقت ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل سیاسی بلوغت کے منافی ہے اور عوام اب ایسے بیانیے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، موروثی سیاست کا راگ الاپنے والی پی ٹی آئی خود اپنے قریبی رشتہ داروں کو انتخابی میدان میں اتارتی رہی ہے ، پی ٹی آئی کے جلسوں میں عوام کی کم ہوتی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ اس جماعت کے بیانیے سے گمراہ نہیں ہو رہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے چار سالہ دورِ اقتدار کو تاریخ کے بدترین برس کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں سیاسی ماحول کو ذاتی دشمنی کا رنگ دیا گیا، مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا اور چور ڈاکو کے نعروں کے ذریعے سیاست کا وقار مجروح کیا گیا ، جن روایات کا آج پی ٹی آئی ماتم کرتی نظر آتی ہے، وہی طریقے اس نے خود متعارف کرائے تھے۔
انہوں نے کہا کہ گالم گلوچ، بدتمیزی اور خواتین کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال پی ٹی آئی کا مستقل وطیرہ رہا ہے، مگر حالیہ انتخابات نے ثابت کر دیا کہ عوام اس سیاست کو مسترد کر چکے ہیں، نواز شریف کی سیاست کو ختم کرنے کی سازشیں کرنے والے آج خود تاریخ کے صفحات میں دفن ہو چکے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ خدمت کی سیاست کو ترجیح دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔