وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ حالیہ انتخابات میں عوام نے ثابت کیا ہے کہ ملک کی ترقی اس بات میں ہے کہ حکمران عوامی خدمت کے ایجنڈے پر کامکریں، نہ کہ نفرت، الزام اور جھوٹ کو سیاست کا محور بنائیں، عوام نے انتشار، بدتمیزی اور الزام تراشی کی سیاست کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان صرف اکیلا مجرم نہیں، اس کو لانے والے اس سے بھی بڑے مجرم ہیں، نواز شریف

اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حالیہ کامیابیاں اللہ کے فضل اور عوام کے اعتماد کا نتیجہ ہیں اور پوری جماعت اس فتح پر شکر گزار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب ہی نہیں بلکہ لاہور، میانوالی، سرگودھا، ساہیوال اور ہری پور تک مسلم لیگ ن کو نمایاں برتری ملی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عوام نے انتشار، بدتمیزی اور الزام تراشی کی سیاست کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے سینئر رہنما نانا ثناء اللہ، پرویز رشید، سعد رفیق اور دیگر رہنما مسلسل عوام کے ساتھ کھڑے رہے اور امیدواروں نے اپنے اپنے حلقوں میں انتھک محنت کی۔ مریم نواز کے مطابق میانوالی میں گرین بس سروس کے افتتاح کے موقع پر ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہاں سیاسی فضا تبدیل ہو چکی ہے اور عوام خدمت کی سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں۔

’جو لوگ مورثی سیاست کا طعنہ دیتے ہیں، وہ خود بیویوں، بھائیوں، کزنوں اور رشتہ داروں کو امیدوار بناتے رہے‘

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے مشکلات، مقدمات، قید و بند، انتقامی کارروائیوں اور خاندانوں پر آنے والی تکالیف کے باوجود کبھی سیاسی جدوجہد سے پیچھے قدم نہیں ہٹایا اور نہ ہی کبھی کسی الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلی پنجاب مریم نواز جنوبی پنجاب کے ایم پی ایز سے کیوں ناراض ہیں؟

 انہوں نے کہا کہ دوسری جماعتوں نے بائیکاٹ کا دعویٰ کیا مگر ان کے امیدوار بھی کھڑے تھے، کیمپ بھی لگے تھے، تصاویر بھی آویزاں تھیں اور مہم بھی چل رہی تھی، لیکن عوام نے انہیں ووٹ دینے سے انکار کر دیا جس سے ان کے بائیکاٹ کے دعوے کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ مورثی سیاست کا طعنہ دیتے ہیں، وہ خود بیویوں، بھائیوں، کزنوں اور رشتہ داروں کو امیدوار بناتے رہے اور انتخابات جیت کر بھی اسے بائیکاٹ کا نتیجہ قرار دینے کی کوشش کی۔ مریم نواز کے مطابق عوام اب اصل اور نقل میں فرق سمجھ چکے ہیں اور عوامی شرکت نے واضح کر دیا ہے کہ انہیں انتشار، فتنہ، گالم گلوچ اور تصادم کی سیاست سے بیزاری ہے۔

’خواتین کی بے توقیری اور ذاتی دشمنی میں بدلا گیا‘

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ گزشتہ 4 سالوں میں جس طرح سیاست کو گالی، بدتہذیبی، مخالفین کی تذلیل، گھروں کو سیاست میں گھسیٹنے، خواتین کی بے توقیری اور ذاتی دشمنی میں بدلا گیا، اس نے معاشرے پر گہرا منفی اثر چھوڑا۔

 ان کا کہنا تھا کہ جو سیاست دان آج شکایتیں کر رہے ہیں، وہی اس خراب روایت کے بانی تھے، اور اب وہی روش انہیں اپنے نتائج دکھا رہی ہے۔ قیادت کو اندازہ ہونا چاہیے کہ سیاست تقریروں سے نہیں بلکہ کارکردگی سے آگے بڑھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں گورننس اور صفائی انتظامات کی نگرانی مزید سخت کردی

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اس وقت فلاحی منصوبوں پر بڑی رفتار سے کام جاری ہے۔ صوبے میں 1 لاکھ 20 ہزار نئے گھر غریبوں کے لیے تعمیر ہو رہے ہیں، لوگ مفت علاج سے استفادہ کر رہے ہیں، اسپتالوں کی تعمیر اور توسیع جاری ہے، طلبہ کو لیپ ٹاپ اور اسکالرشپس دی جارہی ہیں، ستھرا پنجاب پروگرام موثر انداز میں کام کر رہا ہے اور گرین بسیں ہر ضلع اور شہر تک پہنچ رہی ہیں۔ ان کے مطابق آئندہ تین برسوں میں یہ ترقیاتی سفر مزید تیز رفتار ہو جائے گا۔

’امن و امان کی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے‘

وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے اور عوام پہلے سے زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں مذہبی ہم آہنگی برقرار ہے اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی بھی بھائی چارے کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں عوام نے ثابت کیا ہے کہ ملک کی ترقی اس بات میں ہے کہ حکمران عوامی خدمت کے ایجنڈے پر کام کریں، نہ کہ نفرت، الزام اور جھوٹ کو سیاست کا محور بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو جماعتیں چار سال تک ہر ادارے کو دبا کر، مخالفین کو گالیاں دے کر اور عوام کو گمراہ کر کے سیاست چلاتی رہیں، آج وہی آوازیں اپنے خلاف سن کر پریشان ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ تاریخ نے دکھا دیا ہے کہ سیاست میں نفرت کی بنیاد رکھنے والوں کو خود ہی اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بچے میری ریڈلائن، جنسی استحصال اور تشدد قبول نہیں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے ہر دور میں ترقیاتی کام کیے اور ملک کے استحکام میں کردار ادا کیا، اور آج بھی عوام کی ترقی اور خوشحالی اسی راستے سے وابستہ ہے کہ قیادت خدمت کو ترجیح دے اور ملک کو آگے لے جانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ پنجاب مریم نواز انہوں نے کہا کہ یہ بھی پڑھیں مریم نواز نے مسلم لیگ ن سیاست کو کی سیاست سیاست کا اور عوام رہے ہیں عوام نے دیا ہے ہے اور کر دیا

پڑھیں:

اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا

اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔

گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔

سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔

فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔

شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔

دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔

اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔

زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔

ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔

اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی