مصنوعی بیانیہ زمین بوس ہو گیا، عوام نے کارکردگی کی سیاست کو ترجیح دی: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبائی وزراء اور سیکرٹریز کے خصوصی اجلاس سے خطاب میں ضمنی انتخابات کے نتائج کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بائی الیکشن نہیں بلکہ ایک عوامی فیصلہ تھا، جس نے پاکستان کی سیاست کا رخ بدل دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب سمیت مختلف حلقوں میں مسلم لیگ ن نے بھرپور کامیابی حاصل کی۔ فیصل آباد، سرگودھا، لاہور، میانوالی، ڈیرہ غازی خان اور ہری پور سمیت متعدد حلقوں میں ن لیگ نے واضح برتری حاصل کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام نے 2020 والے فیصلے کو دوبارہ دہرایا ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ایک مصنوعی بیانیہ تشکیل دیا گیا، ریاستی قوت استعمال کی گئی، لیکن ’’آرٹی فیشل نیریٹو‘‘ اپنی مدت پوری کر کے خود ہی زمین بوس ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی مصنوعی لیڈر یا مصنوعی بیانیے کی عمر زیادہ نہیں ہوتی، کیونکہ حقیقت ہمیشہ سامنے آ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی لوگ کہتے تھے کہ اب کارکردگی نہیں بلکہ بیانیے کی سیاست چلتی ہے، مگر گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے بیانیے کی سیاست کا نقصان دیکھا۔ 2017 میں نواز شریف حکومت کو ہٹانے کے بعد ترقی کا پہیہ رکا، سی پیک سست روی کا شکار ہوا، بجلی منصوبے متاثر ہوئے، اسٹاک مارکیٹ اور معیشت نیچے آگئی اور مہنگائی نے عوام کو کچل دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بیانیہ سچ پر مبنی ہو تو ٹھیک ہے، لیکن جھوٹے بیانیے کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ ’’میرا آج کا بیانیہ کارکردگی ہے، میرٹ ہے اور زمینی حقائق ہیں۔ اگر کوئی کام نہ ہوتا تو میں بیانیہ کیسے دیتی؟ جھوٹ ایک حد تک بولا جا سکتا ہے، اس کی بھی مدت ہوتی ہے۔‘‘
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جن لوگوں کو ’’عمران دار ججز‘‘ اور جنرل فیض حمید الیکشن جتوایا کرتے تھے، آج ان کے پاس نہ وہ حمایت ہے نہ سہارا۔ ’’اللہ نے ان کی حقیقت پوری دنیا کے سامنے کھول دی ہے۔‘‘
مریم نواز نے اپنی سابقہ قید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2018 میں نواز شریف کے ساتھ انہیں بھی جیل بھیجا گیا۔ ’’میں پہلی خاتون تھی جسے سیاسی انتقام کے تحت جیل میں ڈالا گیا۔ اُس وقت بھی مجھے کہا گیا تھا کہ آپ کی صرف دو سیٹیں رہیں گی، مگر آج عوام نے اُن تمام پیش گوئیوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات کے نتائج اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عوام نے کارکردگی، خدمت اور حقیقت کو ووٹ دیا ہے، نہ کہ مصنوعی بیانیے کو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بیانیے کی مریم نواز نے کہا کہ کی سیاست عوام نے تھا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔