پاکستان میں پہلی بار عالمی مقابلہ حُسن قرات کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عالمی مقابلہ حسن قرات منعقد کیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاھب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے عالمی مقابلہ حسن قرات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج تاریخی اور بابرکت دن ہے، اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ہم یہاں پر پہلا عالمی مقابلہ حسن قرات منعقد کرا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے سابق دور حکومت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر ہم نے جن اصلاحات کا آغاز کیا تھا ہماری کوشش ہے کہ ہم وزارت مذہبی امور کو انہیں خطوط پر دوبارہ استوار کریں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں ہم نے علماء و مشائخ کونسل کا کنونشن منعقد کرایا ہے، نظام صلوۃ اور قرآن بورڈ کے قیام کے لیے کام کا اغاز کیا، قرآن حکیم سرچشمہ ہدایت ہے اس حوالے سے تقریب کا انعقاد انتہائی خوشی کا باعث ہے۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ دنیا کے 40 ممالک سے قراء حضرات اس مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں جو ہمارے لئے بڑی سعادت کی بات ہے، اس سے ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل ہوگی، قرآن کی زبان عربی ہے جو ہم سب کے لیے سیکھنا لازمی ہے تاکہ ہم قران پاک کو پڑھ اور سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے کہ اس بابرکت محفل کی وجہ سے ملک میں عربی کی تعلیم رائج کرنے میں مدد ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عالمی مقابلہ کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔