ایران، آبی قلت کے فسانے اور پانی کا مسئلہ۔۔۔۔ ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ایران ایک ایسا ملک ہے، جو نہ صرف قدرتی تنوع رکھتا ہے بلکہ ایک ایسا معاشرہ بھی تشکیل دیتا ہے، جو تعلیم، تہذیب اور اجتماعی ذمہ داری سے مزین ہے۔ پانی کا مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے، مگر اس کی نوعیت وہ نہیں، جو سیاسی بیانیوں میں دکھائی جاتی ہے۔ یہ ایک قابلِ انتظام صورتحال ہے اور ایران مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے سنجیدگی سے حل کرنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ ایران کی کہانی بحران کی نہیں۔۔۔۔ تدبیر، توازن اور بصیرت کی کہانی ہے۔ تحریر: سید انجم رضا
ایران ہمیشہ سے ایک منفرد جغرافیائی اور تہذیبی اہمیت رکھنے والا ملک رہا ہے۔ چار موسموں کی متوازن سرزمین، زرخیز وادیاں، بلند پہاڑ، وسیع بیابان اور پانی سے بھرپور شمالی علاقے۔۔۔۔ یہ سب ایران کو خطے کی ایک مکمل جغرافیائی اکائی بنا دیتے ہیں۔ اسی متنوع طبیعت کے ساتھ ایران کی آبادی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے اور آج اسّی ملین نفوس کا یہ ملک تیزی سے شہری طرزِ زندگی اپنا رہا ہے۔ ایران کی ایک چوتھائی آبادی تہران اور اس کے گرد آباد ہے۔ جدید سہولتیں، روزگار، تعلیم اور طبی خدمات۔۔۔۔ یہ سب عوامل لوگوں کو شہروں کی طرف کھینچتے ہیں۔ دنیا کے ہر معاشرے کی طرح ایران میں بھی شہری زندگی کی کشش ایک فطری امر ہے۔
لیکن اسی کے ساتھ ایک سوال بھی پیدا ہوتا ہے: کیا شہروں کی طرف بڑھتی یہ ہجرت مستقبل میں مسائل پیدا نہیں کرے گی۔؟ ایرانی حکومت اس سوال کا جواب پہلے ہی دے چکی ہے۔ ریاست کو ادراک ہے کہ اگر آبادی کا سیاسی و معاشی دباؤ مسلسل شہروں پر بڑھتا رہا تو بنیادی ڈھانچے پر بوجھ آئے گا۔ اسی لیے دہی علاقوں کو مضبوط بنانے اور شہری ہجرت کو متوازن رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایران کے دیہی علاقوں میں بجلی، گیس، پانی، صحت، تعلیم اور سڑکیں اس انداز میں موجود ہیں کہ شہری و دیہی فرق کم سے کم محسوس ہو۔
پانی کا مسئلہ، حقیقت کیا ہے؟
مغربی میڈیا گذشتہ کچھ برسوں سے یہ بیانیہ بنا رہا ہے کہ ایران شدید پانی کے بحران کا شکار ہے۔۔۔۔ ایک کمزور، مشکلات سے گھرا ہوا ملک۔ یہ تاثر سیاسی تناظر میں سمجھ بھی آتا ہے، لیکن حقائق کہیں زیادہ متوازن ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران میں گھریلو استعمال کے لیے پانی کی کمی نہیں۔ شہری علاقوں میں پینے اور استعمال کے پانی کی براہِ راست فراہمی موجود ہے اور گھروں میں پانی ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ شمالی ایران، مغربی سرحدیں، کردستان اور آذربائیجان کے علاقے پانی کے لحاظ سے بھرپور ہیں۔ لاکھوں زائرین اور سیاح ہر سال ایران کا رخ کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود شہری پانی کے نظام میں کوئی نمایاں دباؤ نظر نہیں آتا۔
البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ گذشتہ دس برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے بعض علاقوں، بالخصوص اصفہان، شیراز، سیستان اور کرک۔۔۔۔ کو کچھ متاثر کیا ہے۔ یہ مسئلہ صرف ایران کا نہیں؛ خطے کے تمام ممالک اسی عالمی تبدیلی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایران کی مستقبل بینی یہ ہے کہ وہ خلیج فارس کے پانی کو پینے کے قابل بنانے کے ایک بڑے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ یہ منصوبہ ایران کی آنے والی نسلوں کے لیے پانی کی مکمل تحفّظ کا ضامن بن سکتا ہے۔
تعلیم یافتہ معاشرہ اور قومی شعور
ایران کا سماج خواندگی کے اعتبار سے خطے میں نمایاں ہے۔ ننانوے فیصد خواندگی اور ایک باشعور عوام۔۔۔۔ یہ وہ عوامل ہیں، جو لوگوں کو وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کی طرف راغب کرتے ہیں۔ پانی کے معاملے پر حکومتی اپیلیں اسی اجتماعی شعور کی بنیاد پر ایک موثر پیغام بن کر سامنے آتی ہیں۔ پاکستانی سفارتخانے کا اپنے زیرِ انتظام دفاتر و اسکولز میں پانی کی کفایت شعاری کا اعلان اسی مشترکہ ذمہ داری کا ایک عملی اظہار ہے۔
ایران۔۔۔۔۔ چار موسموں کی ایک کہکشاں
ایران وہ سرزمین ہے، جہاں چاروں موسم اپنے بھرپور رنگوں کے ساتھ اترتے ہیں۔ پہاڑوں کی برف، صحراؤں کی سنہری تپش، شمال کی سبز وادیوں کی نمی اور جنوب کی گرم ہواؤں کا لمس۔۔۔۔۔ سب ایک ہی نقشے میں سانس لیتے ہیں۔ قدرت نے اپنے خزانوں میں سے بہت کچھ اس دھرتی کی جھولی میں ڈال دیا ہے؛ پانی ہو یا زرخیز مٹی، معدنیات ہوں یا موسمی تنوع۔۔۔ یہ سب ایران کی پہچان ہیں۔ ایران ایک ایسا ملک ہے، جو نہ صرف قدرتی تنوع رکھتا ہے بلکہ ایک ایسا معاشرہ بھی تشکیل دیتا ہے، جو تعلیم، تہذیب اور اجتماعی ذمہ داری سے مزین ہے۔ پانی کا مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے، مگر اس کی نوعیت وہ نہیں، جو سیاسی بیانیوں میں دکھائی جاتی ہے۔ یہ ایک قابلِ انتظام صورتحال ہے اور ایران مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے سنجیدگی سے حل کرنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ ایران کی کہانی بحران کی نہیں۔۔۔۔ تدبیر، توازن اور بصیرت کی کہانی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پانی کا مسئلہ ایک ایسا ایران کی کی کہانی پانی کے پانی کی ہے اور رہا ہے
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے نفسیاتی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو تنخواہ ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سارے بجٹ کو ہلا دیتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ