خود کو آگ لگانے کا خواب دیکھ کر شہری نے حقیقت میں خودسوزی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں ایک شخص نے خود پر تیل چھڑک کر آگ لگانے کا خواب دیکھ کر، حقیقت میں خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر خود سوزی کر لی۔تفصیلات کے مطابق اورنگی تھانے کی حدود قصبہ موڑ شہزاد سنیما کے قریب گھر میں 60 سالہ اللہ رکھا آگ میں جھلس کر شدید زخمی ہوگیا جسے تشویشناک حالت میں سول اسپتال کے برنس وارڈ منتقل کیا گیا۔پولیس کے مطابق شدید جھلس کر زخمی ہونے والا شخص سول اسپتال میں دوران علاج چل بسا۔ ایس ایچ اواورنگی ٹاؤن یوسف مہر نے بتایا کہ متوفی کا آبائی تعلق راولپنڈی سے تھا اور وہ 10 روز قبل اپنی سالی کے گھر آیا تھا۔ متوفی کی سالی نے پولیس کو بتایا کہ اللہ رکھا نے اسے بتایا تھا کہ وہ 3 روز سے خواب میں دیکھ رہا تھا کہ اس نے خو د پر تیل چھڑ ک کر آگ لگا دی، جس کے سبب وہ انتہائی پریشان بھی تھا تاہم ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب اس نے اپنے جسم پر مٹی کا تیل چھڑکا اور خود کو آگ لگا دی۔ پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردی تاہم پولیس واقعے کی دیگر پہلوؤں سے بھی تحقیقات کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔