ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور پر حملہ کرنیوالے مبینہ خودکش بمبارکی تصویر سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پرحملہ کرنے والےمبینہ خودکش بمبارکی تصویر سامنے آگئی۔ پشاور میں آج صبح فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر پر دہشتگردوں نے حملہ کیا جسےناکام بنا دیا گیا۔فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 3 خودکش حملہ آوروں کو ہلاک کردیا جب کہ حملے میں تین ایف سی اہلکار بھی شہید ہوئے۔ایف سی ہیڈکوراٹر پر حملہ کرنے والےمبینہ خودکش بمبارکی تصویرذرائع کو موصول ہوگئی ہے اور پولیس حکام نے بھی مبینہ دہشتگرد کی تصویر کی تصدیق کی۔ پولیس کے مطابق دہشتگرد بی آر ٹی اسٹیشن کےقریب8 بج کر7 منٹ پر پہنچ گیا تھا اور اس نے دھماکے سےقبل ہیڈکوارٹرز کے سامنے بی آر ٹی اسٹیشن پرکچھ وقت گزارا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تصویر میں نظر آنے والا خودکش بمبار ہے جس نے ٹوپی پہن رکھی تھی اورچادر بھی اوڑھی ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔