اوبر ڈرائیور کے طرز عمل اور خاتون مسافر کے ردعمل نے لاکھوں دل جیت لیے، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
بھارت میں ایک عام سا سفر اس وقت غیر معمولی بن گیا جب ایک اوبر ڈرائیور نے بھوک سے نڈھال مسافر کے لیے راستے میں رک کر سینڈوچ خریدا۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا جس نے صارفین کے دل جیت لیے اور ان کی جانب سے ڈرائیور کو خوب سراہا جا رہا ہے۔
بھارتی اداکارہ و ماڈل یوگِتا راتھوڑ نے واقعہ کی ویڈیو انسٹاگرام پر شیئر کرتے ہوئے اسے اپنی زندگی کے سب سے دل کو چھو لینے والے تجربات میں سے ایک قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’اوبر‘ کے بعد مقبول ترین رائیڈنگ سروس نے پاکستان میں کاروبار بند کردیا
ان کا کہنا تھا کہ شوٹنگ کے طویل دن کے بعد جب وہ ایئرپورٹ جانے کے لیے ٹیکسی میں بیٹھیں تو وہ تھکی ہوئی، جذباتی اور بےحد بھوکی تھیں۔ فون پر ایک دوست سے بات کرتے ہوئے وہ رو پڑیں اور بتایا کہ انہوں نے پورا دن کچھ نہیں کھایا۔ رات 2 بجے کی فلائٹ ہے میں کب کھانا کھاؤں گی۔
View this post on Instagram
A post shared by Yogitaa Rathore (@yogitaarathore)
انہوں نے مزید بتایا کہ سفر کے دوران ڈرائیور نے اچانک گاڑی روکی اور کہا میں دو منٹ میں آتا ہوں۔ یوگِتا کے مطابق انہوں نے سمجھا کہ شاید ڈرائیور کو واش روم جانا ہے، اس لیے انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے مگر جو کچھ اگلے لمحے ہوا وہ اُن کے تصور سے باہر تھا۔
ڈرائیور واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں سینڈوچ کا ایک ڈبہ تھا۔ ویڈیو میں ڈرائیور کو کہتے سنا گیا کہ آپ اپنی دوست کو بتا رہی تھیں کہ آپ کو بہت بھوک لگی ہے، تو مجھے برا لگا۔ اگر میری بہن بھی بھوکی ہوتی تو مجھے برا لگتا اسی لیے میں کوئی دکان ڈھونڈ رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین اوبر ڈرائیورز اور سعودی عرب کا ویژن 2030 کیا ہے؟
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ خاص طور پر ویجیٹرین کھانا ڈھونڈنے گئے تھے کیونکہ انہوں نے فون پر سنا تھا کہ یوگِتا صرف ویجیٹرین کھانا چاہتی ہیں۔ ڈرائیور کے اس عمل نے اداکارہ کو بے حد متاثر کیا، اور انہوں نے کہا کہ وہ اس لمحے کو کبھی نہیں بھولیں گی۔
ویڈیو وائرل ہوئی تو صارفین اس پر مختلف تبصرے کرتے نظر آئے۔ کسی نے کہا کہ ’ایسے مرد ہمیں محفوظ محسوس کراتے ہیں‘، تو کوئی یہ کہتا نظرآیا کہ اس واقعہ نے انہیں رلا دیا۔ ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ مہربانی ہمیشہ ایسی جگہ سے آتی ہے جہاں سے آپ توقع بھی نہیں کرتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوبر اوبر ڈرائیور ویڈیو وائرل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوبر اوبر ڈرائیور ویڈیو وائرل اوبر ڈرائیور انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔