اپنے بیان میں رہنما ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ پیپلز پارٹی صوبائی سطح پر اور ایم کیو ایم شہری حکومتوں میں ہونے کے باوجود کارکردگی دکھانے میں مکمل ناکام رہیں، جس کا خمیازہ آج کراچی کے شہری بھگت رہے ہیں، شہر کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے شفاف حکمتِ عملی اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ مبشر حسن کا کہنا تھا کہ شہرِ قائد کی بگڑتی ہوئی صورتحال صفائی، ٹریفک کے مسائل، پانی کی کمی اور بدانتظامی کی ذمہ داری پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر عائد ہوتی ہے، دونوں جماعتوں نے دہائیوں تک اقتدار اور اختیارات رکھنے کے باوجود کراچی کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا اور یہ جماعتیں شہری مسائل کے حل میں  یکسر ناکام ہیں اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ کا کردار ادا کر رہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے مگر اس کے باوجود شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جس کے سبب عوام میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ٹوٹی سڑکیں، کچرے کے ڈھیر، پانی و سیوریج کا شدید بحران، ٹرانسپورٹ کی تباہ حالی اور انتظامی ناکامی اس بات کا ثبوت ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں جماعتوں نے کراچی کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا مگر عوامی مسائل پر کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا، شہر کے گورنر و وزیراعلیٰ روبن ہُڈ بننے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری جانب عوام کو جعلی میئر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جن کی کارکردگی علاقائی کونسلر کے برابر نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی صوبائی سطح پر اور ایم کیو ایم شہری حکومتوں میں ہونے کے باوجود کارکردگی دکھانے میں مکمل ناکام رہیں، جس کا خمیازہ آج کراچی کے شہری بھگت رہے ہیں، شہر کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے شفاف حکمتِ عملی اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے، اگر یہی طرزِ حکمرانی جاری رہا تو شہر کے حالات مزید سنگین ہوجائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کے باوجود انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری