اختیارات عوام کے منتخب، حقیقی نمائندوں کے سپرد کئے جائیں، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ جن لوگوں کو عام انتخابات کے موقع پر پاکستان کے عوام نے واضح طور پر ردّ کر دیا، انہیں زبردستی ملک پر مسلط کرنا عوام کے مینڈیٹ اور جمہوری اقدار کی توہین ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ ملکی حالات کی ابتری کا بنیادی سبب عوام کی مقبول سیاسی قیادت کو پابندِ سلاسل کرنا اور اس کی جگہ مصنوعی، جعلی اور عوام سے مسترد شدہ قیادت کو ملک پر مسلط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو عام انتخابات کے موقع پر پاکستان کے عوام نے واضح طور پر ردّ کر دیا، انہیں زبردستی ملک پر مسلط کرنا عوام کے مینڈیٹ اور جمہوری اقدار کی توہین ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہداد کوٹ میں نصیر آباد پریس کلب میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس سے قبل علامہ مقصود ڈومکی نے نصیر آباد پہنچ کر پریس کلب نصیر آباد کے صدر بشیر احمد لغاری سے ان کی ہمشیرہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور مرحومہ کے لیے بلندیٔ درجات کی دعا کی۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم ضلع قمبر شہداد کوٹ کے سابق ضلعی صدر مولانا سید اختر حسین نقوی بھی ان کے ہمراہ تھے۔
پریس کلب کے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک کے مسائل ایک سال میں حل ہو سکتے ہیں، اگر ان صوبوں کی حقیقی سیاسی قیادت کو آئینی و انتظامی اختیارات کے ساتھ حکومت اور اقتدار سونپا جائے۔ جعلی مینڈیٹ کے حامل حکمرانوں کی وجہ سے ملک شدید بحرانوں کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں غیر جمہوری قوتوں کو پروان چڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک جمہوری ملک میں پرامن تبدیلی کے تمام راستے بند کر دیئے جائیں، تو عوام کو تبدیلی کے لئے مجبوراً پرتشدد راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جعلی مینڈیٹ کی سرپرستی ترک کی جائے اور ملک کے تمام اختیارات عوام کے منتخب، حقیقی اور بااختیار نمائندوں کے سپرد کیے جائیں۔ ملک کو جبر و تشدد کے بجائے آئینِ پاکستان اور عوامی رائے کی روشنی میں چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام محب وطن ہیں اور اپنے ملک و عوامی مفادات کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے مزید کہا کہ مجلس وحدت مسلمین سندھ کی وحدت، امن، یکجہتی اور سالمیت پر یقین رکھتی ہے۔ ہم نے ہمیشہ سندھ کے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے اور مظلوم عوام کی ترجمانی کی ہے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے نصیر آباد میں مسجد و امام بارگاہ زینبیہ پہنچ کر مسجد زینبیہ کے متولی زوار روشن علی کی وفات پر ان کے ورثاء سے بھی تعزیت کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ مقصود علی ڈومکی نے نے کہا کہ انہوں نے عوام کے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔