تائیوان میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو کچل دیا جائے گا، چین کا واضح پیغام
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
چین نے واضح کیا ہے کہ وہ تائیوان میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو کچل دے گا، کہ قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے چین کے پاس مضبوط ارادہ اور بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
جاپان کی جانب سے تائیوان کے قریب میزائل تعینات کرنے کے اعلان کے بعد چین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تائیوان کے قریب جاپانی میزائل یونٹ کی تنصیب پر چین کو شدید ردعمل، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
چین کے تائیوان افیئرز آفس کے ترجمان پینگ چِنگ این نے پریس کانفرنس میں کہا کہ قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے چین کے پاس مضبوط ارادہ اور بھرپور صلاحیت موجود ہے اور ہر قسم کی بیرونی مداخلت کو ناکام بنایا جائے گا۔
پینگ چنگ این کے مطابق جاپان کا تائیوان کے قریب اپنے جزیرے یوناغونی پر حملہ آور نوعیت کے ہتھیار تعینات کرنا انتہائی خطرناک ہے جو خطے میں جان بوجھ کر تناؤ بڑھانے اور عسکری محاذ آرائی کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔
یہ بیان جاپان کے وزیر دفاع شنجیرو کوئزو می کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے یوناغونی جزیرے پر درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نظام کی تنصیب کا فیصلہ ظاہر کیا تھا۔ جاپانی وزیر دفاع کے مطابق یہ نظام ملک کے دفاع کو مضبوط کرے گا اور بیرونی حملے کے امکانات کو کم کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی صدر شی جن پنگ کا امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر رابطہ، تائیوان کے معاملے پر بھی گفتگو
چین کی وزارت خارجہ نے بھی جاپان کے اس اقدام کو خطے میں تناؤ بڑھانے کی دانستہ کوشش قرار دیا جس پر جاپانی وزیر دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ میزائل نظام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہوگا۔
تائیوان نے جاپان کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے تائیوان اسٹریٹ میں سکیورٹی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ تائیوان کے نائب وزیر خارجہ فرانسس وو کے مطابق جاپان کی جانب سے عسکری صلاحیت میں اضافہ تائیوان کے قومی مفاد کے مطابق ہے کیونکہ جاپان کی تائیوان کے خلاف کوئی جارحانہ نیت نہیں۔
دوسری جانب تائیوان کے صدر ولیم لائی چنگ تے نے اعلان کیا ہے کہ ملک ایک 40 ارب ڈالر کا اضافی دفاعی بجٹ لا رہا ہے جو 2026 سے 2033 تک آٹھ سال میں خرچ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ جارحیت کے سامنے پسپائی اختیار کرنے کا نتیجہ محکومی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: چین تائیوان پر حملہ نہیں چاہتا، منصفانہ تجارتی معاہدے کی امید ہے، ٹرمپ
ان کے مطابق آزادی، جمہوریت اور قومی خودمختاری تائیوان کی بنیادی اقدار ہیں اور نیا دفاعی بجٹ اس کے دفاع کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
تائیوان کے وزیر دفاع ویلنٹن کو نے بتایا کہ 40 ارب ڈالر کا یہ بجٹ بالائی حد ہے اور اسے درستگی سے مار کرنے والے میزائلوں، تحقیق و ترقی اور امریکہ کے ساتھ عسکری تعاون کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
چین کے ترجمان نے تائیوان کے دفاعی بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ رقم عوام کی فلاح اور معیشت کی ترقی پر خرچ ہونی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات تائیوان کو تباہی کی طرف دھکیل دیں گے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران جاپان نے یہ بھی بتایا کہ اس نے ایک مشتبہ چینی ڈرون کی موجودگی پر اپنے طیارے فضاء میں بھیجے۔ جاپانی وزارت دفاع نے کہا کہ چینی ساختہ سمجھا جانے والا یہ ڈرون یوناغونی اور تائیوان کے درمیان سے گزرا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے چین کو تائیوان کیخلاف طاقت کے استعمال سے روکا تو نوبل انعام کے حقدار ہونگے، تائیوانی صدر
ادھر جاپان اور چین کے تعلقات میں مزید تناؤ اس وقت پیدا ہوا جب جاپان کی نئی وزیراعظم سانائے تاکائچی نے پارلیمنٹ میں کہا کہ چین کے ممکنہ حملے کی صورت میں جاپان فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔
اس بیان پر چین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے جاپان کا سفر کرنے سے عوامی بائیکاٹ کی مہم بھی شروع کی۔ جاپانی وزیراعظم نے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا ہے جبکہ ٹوکیو نے کہا ہے کہ وہ تناؤ کم کرنے کے لیے بیجنگ سے ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا تائیوان جاپان چین میزائیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا تائیوان جاپان چین میزائیل یہ بھی پڑھیں تائیوان کے وزیر دفاع کے مطابق جاپان کی کے دفاع دفاع کے کیا ہے ہے اور چین کے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔