Juraat:
2026-07-24@03:58:21 GMT

اسرائیل نے پھر لبنان پر حملہ کردیا، 13 شہری شہید

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

اسرائیل نے پھر لبنان پر حملہ کردیا، 13 شہری شہید

عین الحلوہ پناہ گزینوں کے کیمپ پر ڈرون کی وحشیانہ بمباری ، متعدد زخمی ہوگئے
شہدا کیمپ کے اپنے نوجوان ہیں، حماس نے اسرائیل کے دعوے کو مسترد کردیا

جنوبی لبنان کے شہر صیدا میں واقع عین الحلوہ کیمپ پر قابض اسرائیلی فوج کے حملے کے نتیجے میں13فلسطینی شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ واقعہ جنوبی لبنان کے علاقے بلیدا میں ایک ڈرون حملے میں ایک شخص شہید ہونے کے چند گھنٹوں بعد پیش آیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قابض اسرائیلی فوج نے ڈرون عین الحلوہ کیمپ میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے کیلئے بھیجا تھا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق حملہ خالد بن الولید مسجد کے قریب کیمپ کے نچلے علاقے کی سڑک پر ہوا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔حماس ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیل نے عین الحلوہ کیمپ کے مشہور اور بند مینی فٹبال میدان کو نشانہ بنایا جو اس وقت ہمیشہ نوجوانوں سے بھرا ہوتا ہے۔ حماس نے اسرائیل کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ شہدا کیمپ کے اپنے نوجوان ہیں، کسی حماس کے رکن کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔حماس نے واقعہ کو ایک واضح اسرائیلی قتل عام قرار دیا اور خبردار کیا کہ قابض اسرائیل بڑے پیمانے پر تشدد بڑھانا چاہتا ہے۔حملہ ایک حساس موقع پر کیا گیا جب لبنان کی صورتحال نازک ہے اور قابض اسرائیل لبنان پر جارحیت بڑھانے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملہ لبنان میں حالات کو الجھانے اور گزشتہ روز سلامتی کونسل کے فیصلے کے پس منظر میں کیا گیا۔حملے کے فوراً بعد ایک ڈرون بہت کم بلندی پر زہرانی سے صیدا میں حملے کے مقام تک پرواز کرتا رہا۔اس سے قبل بلیدا میں قابض اسرائیل کے ڈرون حملے میں ایک شخص شہید ہوا ۔صبح ڈرون نے بلیدا میں ایک کھدائی مشین پر بم پھینکا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ جنوبی لبنان کے بنت جبیل میں ایک ڈرون نے گاڑی پر حملہ کیا جس میں ایک لبنانی شہری شہید ہوا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس گاڑی پر حملہ اتحادی بلدیات بنت جبیل کے رکن علی شعیتو کی شہادت کا باعث بنا۔اس دوران قابض اسرائیل کا لڑاکا طیارہ مشرقی و مغربی سلسلے، شمالی بقاع اور ہرمل کے علاقوں میں درمیانی بلندی پر پرواز کرتا رہا، جبکہ دوپہر سے النبطیہ، التفاح اور ارد گرد علاقوں میں فرضی فضائی حملے کئے گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: قابض اسرائیل عین الحلوہ کیمپ کے میں ایک

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو