چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت کیش لیس اکانومی کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت کیش لیس اکانومی کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے اجلاس WhatsAppFacebookTwitter 0 26 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کیش لیس اکانومی کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے بدھ کے روز سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جسمیں سی ڈی اے کے ممبر ایڈمن طلعت محمود، ممبر فنانس طاہر نعیم، سی ڈی اے کے سینئر افسران سمیت مرکزی و کمرشل بینکس کے نمائندگان نے شرکت کی۔
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے وژن کے مطابق اسلام آباد کو کیش لیس اکانومی کے حوالے سے ماڈل شہر بنایا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، اسلام آباد کے ہفتہ وار بازاروں، سی ڈی اے کے ون ونڈو فیسلیٹیشن سینٹر اور میٹرو و الیکٹرک بسوں میں کامیابی کیساتھ کیش لیس نظام متعارف کرایا جاچکا ہے۔ جبکہ کیو آر کوڈ سسٹم کے نفاذ کا دائرہ کار شہر بھر کے تمام مراکز، شاپنگ مالز اور کلاس تھری مارکیٹوں تک بھی تیزی سے بڑھایا جارہا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد شہر میں ہوٹل، گیسٹ ہاسز، پیٹرول پمپس اور ریستورانوں میں بھی کیش لیس نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ کیش لیس اکانومی کو فروغ دینے کیلئے کمرشل بینکس مرچنٹس اور شہریوں کو مکمل آگاہی فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز دوکاندار اور تاجروں کے ساتھ صارفین کو راست کیو آر کوڈ کے زریعے ادائیگیوں کی طرف راغب کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ رعایت اور مراعات دیں۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو ڈیجیٹل شہر بنانے کیلئے ایم ٹیگ اور ڈیجیٹل پارکنگ جیسے منصوبے بھی متعارف کروائے جا ریے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات سے اسلام آباد کو مکمل طور پر ایک کیش لیس اور ڈیجیٹلائزڈ شہر بنانے میں مدد ملے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکرپشن اسکینڈل، این سی سی آئی اے کے ملوث افسران کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کرپشن اسکینڈل، این سی سی آئی اے کے ملوث افسران کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد ترقی کی چابی صرف ن لیگ کے پاس ہے ،سازشیں کرنے والے تاریخ کی کتاب میں بند ہو گئے، مریم نواز وزیراعظم شہبازشریف بحرین کے 2 روزہ سرکاری دورے پر منامہ پہنچ گئے بانی پی ٹی آئی اکیلے نہیں،ان کو لانے والے بھی مجرم ہیں، نوازشریف وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن طلبی نوٹس کیخلاف درخواستیں خارج چھبیس نومبر احتجاج کیس، علیمہ خان عارضی عدالتی تحویل میں لینے کے بعد ضمانت پر رہاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کیش لیس اکانومی کو محمد علی رندھاوا چیئرمین سی ڈی اے کے حوالے سے اسلام آباد نے کہا کہ
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔