اسلام آباد سے 17 سال قبل لاپتہ ہونے والی لڑکی ایدھی سینٹر کراچی سے مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
’جیو نیوز‘ گریب
اسلام آباد سے17 سال قبل لاپتہ ہونے والی لڑکی ایدھی سینٹر کراچی سے مل گئی۔
اس حوالے سے ایدھی سینٹر حکام کا کہنا ہے کہ 27 سال کی کرن کو اس کے والد کے حوالے کر دیا گیا، کرن کی تلاش سیف سٹی پنجاب کی کاوشوں سے ممکن ہوئی۔
کرن نے کہا کہ میں گھر سے آئس کریم لینے نکلی تھی، گلی بھول گئی تھی، راستہ بھٹک گئی تو کوئی مجھے ایدھی سینٹر اسلام آباد چھوڑ گیا تھا، بعد میں مجھے امی بلقیس ایدھی کراچی لے کر آئیں۔
انہوں نے کہا کہ ایدھی سینٹر میں رہ کر میں نے دینی اور دنیاوی تعلیم حاصل کی۔ آج بہت خوشی ہے کہ والدین سے مل رہی ہوں۔ ایدھی سینٹر میں بہت اچھا وقت گزارا، ہمیشہ یاد رہے گا۔
شبانہ فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ کرن کو والدین کی تلاش کے لیے کئی بار اسلام آباد بھیجا گیا، چند روز کے دوران ملک بھر سے 12 بچے والدین کے حوالے کیے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی سے یہ پانچویں لڑکی ہے جس کے والدین کی تلاش ممکن ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایدھی سینٹر اسلام آباد
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔