پی ٹی آئی کارکنان 25 نومبر کو اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج میں شرکت کریں، عالیہ حمزہ کی کال
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:تحریک انصاف کی چیف آرگنائزر پنجاب عالیہ حمزہ نے کہا ہے کہ 25 نومبر بروز منگل کو پنجاب کی عوام کو اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ ایک آواز بن کر عمران خان کی فیملی کے ساتھ کھڑا رہا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ خان سے ملاقات ان کے خاندان کا ایک آئینی، قانونی اور انسانی حق ہے، جسے نہ صرف عدالتوں نے تسلیم کیا ہے بلکہ جیل مینوئل بھی اجازت دیتا ہے۔
عالیہ حمزہ نے پارٹی کے اراکین، ایم این ایز، ایم پی ایز، ٹکٹ ہولڈرز، تنظیمی عہدیداروں اور کارکنوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اس دن اڈیالہ جیل میں موجود رہیں، خاص طور پر جب خان کے اہل خانہ وہاں ہوں۔
انہوں نے ٹکٹ ہولڈرز کو خصوصی ہدایت دی ہے کہ وہ کم از کم چار کارکنوں کو ساتھ لے کر احتجاج میں حصہ لیں،محکوم اور مشکل اس دور میں خان کے خاندان کے ساتھ یک جہتی کا مظاہرہ ضروری ہے اور انہیں ان کے حق سے محروم نہیں ہونے دینا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔