خواتین کو محفوظ بنانے کیلئے پر عزم ‘ تشدد ہراسانی برداشت نہیں : مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت مسلسل تیسرے روز بھی صوبے میں شفافیت کے لئے پنجاب کے ہر ادارے کی پرفارمنس کا احتساب کیا گیا۔ اجلاس میں ہر منسٹری، ہر محکمہ اور ہر سیکرٹریز سے مکمل جواب طلبی کی گئی۔ اس موقع پر نئے پراجیکٹس سے متعلق بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ لگاتار 6 گھنٹے ایجوکیشن، ماحولیات، جنگلات، وائلڈ لائف، فشریز، ٹورازم، آرکیالوجی، سپورٹس اور لیبر کے ہر شعبے سے متعلق امورکی جانچ پڑتال اور تفصیلی بریفنگ لی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجابی زبان کو تعلیم، ثقافت اور عوامی زندگی میں مرکزی مقام دلانے کے لیے تاریخی اقدامات کا حکم دے دیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ محنت کشوں کے اپنے گھر کا خواب پورا کرنے کے لئے جھنگ اور کمالیہ میں 20 ہزار ورکرز کے لیے 3 مرلے کے پلاٹ دینے کی سکیم کی تیاری مکمل کر لی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ریلوے ٹریک، سڑکوں اور نہروں کے کنارے شجرکاری کے اقدامات کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ قدرتی وسائل کی حفاظت کے لئے پنجاب میں جنگلات میں آگ لگنے سے 20 منٹ پہلے مطلع کرنے والا جدید فائر الارمنگ سسٹم نصب کیا جائے گا۔ پنجاب کے جنگلات کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے سپیشل سینسنگ سسٹم کے ذریعے غیر قانونی درخت کاٹنے کے واقعات کا فوری سدباب کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کھیلوں کے فروغ اور نوجوان ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے کے لئے ہر ماہ چیمپئن شپ ایونٹس کرانے کا حکم دیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب میں شریمپ فارمنگ کا پہلا پائلٹ پراجیکٹ کامیابی سے ہمکنار،کروڑوں روپے کے جھینگے کامیابی سے ایکسپورٹ کیے گئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پانچ ہزار ایکڑ پر شریمپ فارمنگ فروری2026سے شروع ہوجائے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے شریمپ فارمنگ کی توسیع کے لئے 50ہزار ایکڑ پر شریمپ فارمنگ کا فیسبلٹی کا پلان طلب کر لیا۔ وزیراعلیٰ نے سیاحت کو بھی ڈیجیٹلائز ڈکر دیا۔ سیاحوں کے لئے’’میگنی فیشینٹ پنجاب‘‘ ایپ تیار کر لی گئی۔ ایپ سے ہر سیاح کو آسانی، سہولت اور پنجاب کی خوبصورتی کی مکمل معلومات میسر ہوں گی۔ پنجاب میں سیاحت کو نئے عروج تک لے جانے کے لئے ہر ٹورسٹ سائٹ کے لیے مکمل پیکج پلان کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صحت مند سرگرمیوں کے لئے پنجاب بھر میں سکول گراؤنڈز شام کو عوام کے لئے کھولنے کے لئے اقدامات کا حکم دے دیا ہے۔ پرائیویٹ یونیورسٹی اور کالجز کے لئے لیپ ٹاپ کوٹہ مقرر کرنے کے لئے تجاویز طلب کر لیں اور کالج مینجمنٹ کونسل کا ڈرافٹ تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ یو ای ٹی میں مقامی سموگ گن کی تیاری پر اظہار مسرت کیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے نوجوان نسل کی رہنمائی اور مثبت کردار کی پرورش کے لئے سکولوں میں کریکٹر بلڈنگ کلاسز شروع کرانے کا حکم دیا ہے۔ تعلیم کو ہر راستے تک پہنچانے کے لیے لاہور میں ’ایجوکیشن آن ویل‘ کے پائلٹ پراجیکٹ کے آغاز کا حکم دیا ہے۔ تعلیمی بورڈز کے چیئرمین، سیکرٹری اور کنٹرولر تعیناتی کے طریقہ کار کی اصولی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب کے گرلز کالجز کو 44بسیں جلد از جلد دینے کی ہدایت کی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ محکمہ ماحولیات نے پاکستان کا پہلا ایکو چیٹ بوٹ قائم کر دیا۔ 660 افراد پر مشتمل انوائرمنٹ پروٹیکشن فورس پنجاب بھر میں سرگرم عمل ہے۔ انڈسٹریل انوائرمنٹ کنٹرول کے لئے سی سی ٹی وی مانیٹرنگ سسٹم قائم، رات کے وقت بھی مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ لاہور اور دیگر علاقوں میں فصلیں جلانے کے واقعات میں 66 فیصد کمی ہوئی اور ڈرون سرویلنس سے مانیٹرنگ بھی کی جارہی ہے۔ انڈسٹری میں مضر صحت دھوئیں کے سدباب کے لئے 8خصوصی نائٹ سکواڈ بھی قائم کر دیئے گئے ہیں۔ جبکہ مریم نواز نے بنوں میں 22 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ مریم نواز نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب خواتین کے تحفظ اور حقوق کی پاسداری کے لئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام نے عورت کو نہایت بلند مقام دیا ہے۔ رسول اکرمؐ نے حجۃ الوداع پر اچھا سلوک کرنے ہدایت فرمائی۔ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ ہر خاتون ہر حیثیت میں قابل احترام ہے، تشدد یا ہراسانی ہرگز برداشت نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف نے شریمپ فارمنگ نے کے لئے ہدایت کی کے لیے کا حکم دیا ہے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔