سیکیورٹی فورسزکا کرم میں آپریشن، 22 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
متعدد خوارج زخمی ،خفیہ اطلاعات کی بنیار پرکارروائیاں مرزائی اور مناتو میں کی گئیں
خوارج ایک گھر پر قبضہ کر کے چھپے ہوئے تھے، گھر میں بارودی مواد بھی لگا رکھا تھا
خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں خفیہ اطلاعات کی بنیار پر کی گئیں، جن میں 22 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔ یہ کارروائیاں وسطی کرم کے علاقے مناتو اور مرزائی علاقوں میں کیگئیں۔تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی کرم میں کارروائیاں دو مختلف علاقوں مرزائی اور مناتو میں کی گئیں، جس کے نتیجے میں 22 دہشتگرد ہلاک کر دیٔے گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے، یہ کارروائیاں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں۔خفیہ اطلاع ملتے ہی سیکورٹی فورسز نے نہایت مؤثر، ٹارگٹڈ اور بروقت آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں 22 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے، خوارج آبادی کے قریب ایک گھر پر قبضہ کر کے چھپے ہوئے تھے، کہ ان کی اطلاع پر کارروائی کی گئی۔ دہشتگردوں نے اس گھر میں بارودی مواد بھی لگا رکھا تھا-فوجی کاروائی کے دوران وہ بارود بھی پھٹ گیا جس سے گھر تباہ ہو گیا جب کہ کچھ سیکورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی ہے، قومِ پاکستان اور اس کے محافظ ادارے دہشت گردی کے اس فتنے کے مکمل خاتمے کے لیے یکجا ہیں، اور آخری دہشت گرد کے انجام تک یہ آپریشنز جاری رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: دہشتگرد ہلاک کی گئیں
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔