(احمد منصور )خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی کرروائی کرتے ہوئے بھارتی حمایت فتنہ الخوارج کے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔

 تفصیلات کے مطابق 15 اور 16 نومبر کو خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ کارروائیوں میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 15 دہشت گرد مارے گئے۔

 پہلی کارروائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ 

 محسن نقوی سے چینی سفیر کی ملاقات،سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق  

 سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں 10 خوارج ہلاک ہوئے۔ 

 ہلاک ہونے والوں میں گروہ کا سرکردہ کمانڈر عالم محسود بھی شامل تھا۔ دوسری کارروائی شمالی وزیرستان کے علاقے دتاخیل میں کی گئی۔ جہاں سیکیورٹی فورسز نے مزید 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

 علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن کے اقدامات جاری ہیں تاکہ کسی بھی دوسرے بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج کو تلاش کر کے ختم کیا جا سکے۔

 ڈھاکا میں کشیدگی، مختلف مقامات پر دستی بم حملے

 سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظور کردہ حکمتِ عملی "عزمِ استحکام" کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی جارحانہ مہم پوری طاقت کے ساتھ جاری رہے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار