خوارج ورغلاکرپاک فوج کیخلاف ذہن سازی کرتے ہیں گرفتار : دہشتگرد
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
اسلام آباد+ پشاور (اپنے سٹاف رپورٹر سے +آئی این پی+ نوائے وقت رپورٹ+ بیورو رپورٹ) گرفتار خارجی دہشتگرد کے فتنہ الخوارج کے حوالے سے ہوشربا انکشافات سامنے آ گئے۔ دہشت گرد نے انکشاف کیا کہ فتنہ الخوارج مذہب کے نام پر نوجوانوں کو ورغلا کر انہیں افواج پاکستان کیخلاف اکساتے ہیں۔ جاری ویڈیو بیان میں خارجی دہشت گرد کا کہنا تھا کہ میرا نام احسان اللہ ولد عبدالجنان اور قوم محسود ہے۔ میں کمانڈر بدری، کمانڈر مشتاق، کمانڈر گرنیڈ اور کمانڈر اسلام الدین کیلئے 3 سال تک سہولت کاری کرتا رہا ہوں۔ ہم نے بکتربند گاڑی اور تتور میں پولیس سٹیشن پر حملے سمیت مختلف کارروائیاں کیں۔ فتنہ الخوارج نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے انہیں افواج پاکستان کیخلاف دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال کرتے ہیں۔ خارجی دہشت گرد نے کہا کہ کئی خارجی کمانڈر اپنے ذاتی مفادات کیلئے نوجوانوں کو بدکاری کی طرف دھکیلتے ہیں۔ خوارجی کمانڈر ہمارے ساتھ بداخلاقی کرتے تھے۔ ان خوارج نے جھوٹ بولا کہ پاک فوج کافر ہے مگر حقیقت میں خوارج خود کافر اور مرتد ہیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا تو پتا چلا کہ پاکستانی فوج تو حقیقی مسلمان ہیں۔ میں نے پاک فوج کے جوانوں کو 5وقت نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ میں نے نماز اور کلمے سیکھے جو پہلے نہیں آتے تھے۔ خارجی دہشت گرد کا کہنا تھا کہ میری نوجوانوں سے اپیل ہے کہ پاک فوج کا ساتھ دیں تاکہ دہشت گرد عناصر کی روک تھام اور خاتمہ ہو سکے۔ دریں اثناء ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں دہشتگردی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔ جس میں فتنہ الخوارج کے سرغنہ عالم محسود سمیت 10 دہشتگرد ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔ ہلاک کئے گئے 4 خارجیوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔ جہنم واصل ہونے والے خوارجیوں میں ابو ذکاوان کا سابق نائب خارجی عالم محسود، خارجی سری ولد گل نواز، خارجی ساجد ولد مجید، خارجی طارق ولد حکیم شامل ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق جہنم واصل کئے گئے چار خوارجیوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔ آپریشن کے دوران علاقے سے بھاری مقدار میں بارودی مواد، خود کش جیکٹس ، آئی ای ڈیز اور اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ خوارجی عالم محسود 2008 میں نواز کوٹ پوسٹ پر حملہ، 2010 میں بنوں جیل پر حملہ اور 2014 میں آرمی پوسٹ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ مقامی عمائدین نے سکیورٹی فورسز کے علاقے میں امن قائم کرنے اور خوارج کے خاتمے کے لئے کئے گئے آپریشن پر اظہارِ اطمینان کیا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت آخری خوارجی کے خاتمے اور مکمل امن و امان کی بحالی تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فتنہ الخوارج
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔