Express News:
2026-06-03@08:11:27 GMT

افغانستان اور دہشت گردی

اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT

کیا پاکستان اور افغانستان ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں ؟ کیا تعلقات کی بہتری میں سیاسی ،سفارتی اور عالمی علاقائی تعاون کے امکانات ختم ہوگئے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان میں ایک دوسرے کے لیے نہ صرف بداعتمادی کا ماحول ہے بلکہ بگاڑ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ترکی، قطر اور پس پردہ چین سمیت سعودی عرب کی سفارتی کوششیں بھی بظاہر لگتا ہے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہیں۔پاکستان بدستور افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے اور ٹی ٹی پی کے خلاف بڑے اقدامات پر طالبان حکومت سے تحریری ضمانت چاہتا ہے ، مگر افغان طالبان اس پر تیار نہیں ۔

اصل میں افغانستان کی طالبان حکومت کو بھارت کی سرپرستی اور حمایت حاصل ہے۔افغان طالبان کا جھکاؤ بھی بھارت کی طرف ہے ۔بھارت طالبان کو پاکستان کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ طالبان کی حمایت اور مدد کے ساتھ وہ پاکستان پر نہ صرف دباؤ بڑھا سکتا ہے بلکہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار رکھنا بھی اسی ایجنڈے کا حصہ ہے ۔یہی ایجنڈا افغان طالبان اور کالعدم ٹی ٹی پی کا ہے۔

اس لیے بھارت اور افغان طالبان کا مفاد اسی میں ہے کہ پاک افغان تعلقات میں بہتری نہ آئے۔ یعنی دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ہی ان کا سیاسی مفاد ہے۔ حالانکہ افغانستان کے اپنے داخلی حالات کی بہتری اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اس کے پاکستان سے تعلقات اچھے نہیں ہوتے ۔لیکن بھارت جو اس خطہ میں پاکستان مخالف سرگرمی کا اپنا ایجنڈا رکھتا ہے ۔

اسی طرح افغانستان کے حکمرانوں کا ایجنڈا بھی پاکستان کو غیر مستحکم رکھنا ہے۔ بھارت کی حالیہ پاکستان مخالف جنگجویانہ مہم میں ناکامی کے بعد وہ کسی بھی طور پر پاکستان کے حق میں نہیں ہے بلکہ اس کی حالیہ حکمت عملی میں پاکستان کو سبق سکھانا ہے اور وہ اس عمل میں سمجھتا ہے کہ افغانستان کی مدد سے ایسا کرنا زیادہ آسان ہے۔

پاکستان کے سیکیورٹی ذرایع کے مطابق حال ہی میں وانا کیڈٹ کالج حملہ یا اسلام آباد میں ہونے والی دہشت گردی میں تمام دہشت گرد افغان شہری تھے اور ان حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہی ہوئی تھی۔ ان کے بقول منصوبہ بندی خارجی زاہد جب کہ حکم نور ولی نے دیا ، جب کہ دہشت گردوں کو اسلحہ افغانستان سے ملا اور دہشت گرد مسلسل کابل سے ہدایات لیتے رہے ۔اسی طرح سیکیورٹی ذرایع یہ بھی کہتے ہیں کہ ان حملوں کا مقصد بھارتی خفیہ ایجنسی را کے کہنے پر پاکستان میں سیکیورٹی کے خدشات کو بڑھانا تھا اور ٹی ٹی پی پر دباؤ سے بچنے کے لیے جیش الہند سے ذمے داری قبول کرائی گئی۔

ایک کوشش پاکستان اور سری لنکا کی کرکٹ سیریز کو بھی ختم کرانے کی، کی گئی جو دونوں ممالک کے تعاون اور سیکیورٹی یقین دہانی کی بنیاد پر نہیں ہوسکی ۔پاکستان کا موقف ہے کہ ہم افغانستان سے تحریری ضمانت اس لیے لینا چاہتے ہیں کیونکہ ماضی میں جو بھی کمٹمنٹ دہشت گردی کے خاتمے یا ٹی ٹی پی کے خلاف اقدامات کے تناظر میں افغانستان نے زبانی بنیادوں پر دی، اس پر افغان حکومت نے عملدرآمد نہ کیا۔

افغان حکومت اس نقطہ کو بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ بھارت اس سے تعلقات کی بہتری کو پاکستان مخالفت کی بنیاد پر چلانا چاہتا ہے اور یہ پاکستان کو قبول نہیں۔اصولی طور پر تو پاکستان اور افغانستان جن کا دہشت گردی بنیادی مسئلہ ہے اس کے لیے وہ باہمی تعاون مشترکہ میکنزم اور حکمت عملی کی بنیاد پر آگے بڑھتے اور جو بھی عناصر دونوں اطراف سے دہشت گردی کرتے ہیں یا جو علاقائی سطح کے ممالک دہشت گردی کی سرپرستی کرتے ہیں ان کے خلاف متحد ہونا چاہیے تھا۔

پاکستان کے وزیر دفاع کے بقول اگر افغانستان سے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے تو پھر ہمارے پاس جنگ یا طاقت کے استعمال کے سوا کوئی اور آپشن نہیں بچے گا اور ہم اپنی داخلی سلامتی اورسیکیورٹی کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔ اگر افغانستان کی حکومت نے دہشت گردوں کی سرپرستی ترک نہ کی اور ظاہر ہے کہ پاکستان کو کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔ سمجھنے کی بات یہ بھی ہے کہ اگر جنگ شروع ہوتی ہے تواس کے اثرات کیا ہوں گے ؟ خطے میں نئی کشیدگیاں جنم لیں گی۔

یہ ہی وجہ ہے کہ ترکی اور قطر ایک بار پھر اپنی سفارت کاری کی مدد سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوبارہ مذاکرات کے حامی ہیں اور دیکھنا ہوگا کہ وہ کس حد تک نہ صرف دوبارہ دونوں ممالک کو سیاسی بیٹھک کا حصہ بناتے ہیں بلکہ اسے نتیجہ خیز بنانے میں کوئی بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔خود ایران نے بھی دونوں ممالک کو پیش کش کی ہے کہ وہ مصالحت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر دیگر علاقائی ممالک کو بھی سخت تشویش ہے۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ افغانستان نے 2020دوحہ مذاکرات میں یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اس کی سرزمین پاکستان سمیت کسی کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیںہوگی ، مگر وہ اس پر عملدرآمد نہیں کرسکا جو عملاً حالات کی خرابی کا سبب بنا ہے۔

اسی طرح اس میں بھی اب کوئی شک نہیں کہ افغانستان کی حکومت ٹی ٹی پی کی نہ صرف سیاسی سرپرستی کرتی ہے بلکہ ان کو محفوظ پناہ گاہیںبھی دی ہوئی ہیں۔ایک بڑا چیلنج بھارت اور افغانستان دونوں کی پاکستان میں جاری پراکسی جنگ ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان کے داخلی سیکیورٹی کے چیلنجز بھی بڑھ گئے ہیں ۔ چین ،سعودی عرب ، قطر ،ترکی اور ایران اس کشیدگی کو کم یا ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور افغانستان پر دباؤ بڑھائیں کہ وہ تحریری ضمانت دے کر خود کو اور خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچا سکتا ہے، اسی میں ہم سب کا مفاد جڑا ہوا ہے۔

دوسری طرف ہمارا افغانستان کے تناظر میں ایک مسئلہ داخلی بھی ہے اور یہ مسئلہ خیبر پختون خوا کا ہے جہاں حکومت مخالف جماعت پی ٹی آئی اقتدار میں ہے۔حال ہی میں اس نے افغانستان اور اپنی صوبائی داخلی صورتحال یا دہشت گردی یا جنگی حکمت عملی کے تناظر میں ایک بڑے امن جرگہ کا انعقاد کیا جس میں صوبائی اسمبلی کے حکومتی اور حزب اختلاف کے ارکان سمیت گورنر ،صوبائی سیاسی جماعتوں ،میڈیا سمیت قبائلی عمائدین کو بھی دعوت دی ۔اس جرگہ کا مشترکہ اعلامیہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔اول اس جرگہ میں اس بات کا کھل کر اظہار کیا گیا کہ ہم سب سیاسی اورعسکری قیادت کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متحد ہیں ،البتہ وفاقی حکومت افغانستان کے بارے میں خارجہ پالیسی کو صوبائی حکومت کی مشاورت سے ترتیب دیا جائے۔دوئم وقت آگیا ہے کہ اس دہشت گردی کے ناسور کا پائیدار ،جامع اور مستقل حل نکالا جائے اور بند کمروں کے بجائے مشترکہ اور حقیقت پسندانہ پالیسی تشکیل دی جائے ۔

سوئم، قانون کے دائرہ کار میں صوبہ کے وسائل کو بروئے کار لایاجائے،پولیس اور سی ٹی ڈی داخلی سلامتی کی قیادت کریں ،سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں پر ان کیمرہ بریفنگ دی جائے،پاک افغان سرحد کے تمام تاریخی ،تجارتی راستوں کو فی الفور کھولا جائے ۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ بڑی سیاسی جماعتوں جن میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی صوبائی جماعتیں اور قیادت بھی اس جرگہ کا حصہ تھیں اور مشترکہ اعلامیہ پر ان کے دستخط بھی ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ وفاقی حکومت افعانستان کے تناظر میں جو بھی حتمی پالیسی اختیار کرے، اس میں صوبائی حکومت اور صوبائی جماعتوں سمیت تمام قبائلی عمائدین کی مشاورت شامل ہو اور ایک مشترکہ حکمت عملی پر سب کا اتفاق ہو۔کیونکہ سیاسی اور غیر سیاسی تقسیم کی موجودگی اور بالخصوص خیبر ُپختونخوا جو خود دہشت گردی کا مرکز ہے اس کی قیادت کو نظر انداز کرکے آگے بڑھنا کارگر یا درست حکمت عملی نہیں ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان کہ افغانستان افغانستان کے افغانستان کی افغان طالبان کے تناظر میں دہشت گردی کے پاکستان کو پاکستان کے حکمت عملی کہ افغان چاہتا ہے ٹی ٹی پی ہے بلکہ کے خلاف کو بھی کے لیے ہے اور

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم