دہشت گردی کی حالیہ لہر ...نمٹنے کیلئے قومی وحدت ناگزیر ہے !!
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
ملک میںدہشت گردی کی ایک نئی لہر آئی ہے جس میں وانا میں کیڈٹ کالج اور اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس پر حملے شامل ہیں۔ وانا کیڈٹ کالج میں سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام بچوں کو تحفظ مقام پر منتقل اور دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا
۔دوسری طرف اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس پر حملے میں 12 افراد شہید اور دو درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ سکیورٹی فورسز دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے بڑے اقدامات کر رہی ہیں۔
گزشتہ دنوں خیبر پختونخوا پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے ضلع بنوں اور لکی مروت میں 7 خوارج کو ہلاک کیا جبکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز بھی جاری ہیں۔ ان تمام واقعات کے پیش نظر ’’ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر اور تدارک کیلئے اقدامات‘‘ کے موضوع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں سیاسی معاشی اور دفاعی تجزیہ نگاروں کو مدعو کیا گیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔
کرنل (ر) فرخ چیمہ
(دفاعی تجزیہ کار)
وطن عزیز میں گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کا ناسور موجود ہے جسے کئی بار ختم کیا گیا لیکن یہ کہیں نہ کہیں سے پھوٹ پڑتا ہے۔ دہشگت گردی کی جڑیں کسی ایک جگہ نہیں ہوتیں لہٰذا سب سے پہلے ہمیں بین الاقوامی معاملات کا جائزہ لینا ہے۔اس خطے میں بڑی طاقتیں دلچسپی رکھتی ہیں۔
ان کی توجہ اس خطے خصوصاََ ایران، پاکستان اور افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرکے یہاں کی معدنیات اور اپنے سٹرٹیجک اہداف حاصل کرنے پر ہے۔ اس کیلئے بین الاقوامی طاقتیںاپنا زور لگا رہی ہیں اور ان کے درمیان بھی رسہ کشی جاری ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ علاقائی طاقتیں کیا چاہتی ہیں۔ افغانستان اور بھار ت کا گٹھ جوڑ ہمیشہ سے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اورعالمی فوائد حاصل کرنے کیلئے کام کرتا ہے۔ جونہی افغانستان اور ہمارے درمیان معاملات کشیدہ ہوئے تو بھارت نے اس کا فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔
حال ہی میں دہشت گردی کے دو بڑے واقعات ہوئے ہیں، ایک وانا میں کیڈٹ کالج پر اور دوسرا اسلام آباد میں کچہری پر حملہ ہوا۔ کیڈٹ کالج پر پہلے خودکش دھماکہ ہوا اور پھر حملہ کیا گیا، اللہ تعالیٰ کے فضل سے سارے حملہ آور جہنم واصل کیے گئے ، ہمارا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دوسری طرف اسلام آباد کچہری پر خودکش حملہ ہوا جس کے نتیجے میں درجن کے قریب افراد شہید اور دو درجن سے زائد زخمی ہوئے۔
یہ کہنا کہ آج تک دہشت گردوں کو روکا کیوں نہیں گیا درست نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب خودکش بمبار خود کو تیار کرکے نکل پڑے تو وہ نقصان کرکے ہی جاتا ہے۔ اگر اسے ٹارگٹ پر پہنچنے سے پہلے اسے روکا جائے یا تیاری سے پہلے ہی پکڑ لیا جائے تو بچت ہوسکتی ہے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ ہماری سکیورٹی فورسز نے خودکش بمبار کو پہلے ہی گولی سے اڑا دیا۔ اب دہشت گردی کی حالیہ لہر میں دیکھنا یہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے کہ دہشت گردی سے خود کو محفوظ کر سکیں۔ہماری انٹیلی جنس ادارے اور فورسز بہترین کام کر رہی ہیں، ہمیں اپنی انٹیلی جنس کو مزید تیز کرنا ہے۔
ہمیں کسی بھی ممکنہ حملے سے پہلے ہی اس کو روکنا ہے۔ اس کیلئے عوام کی شمولیت اور تعاون بہت ضروری ہے۔ عوام اداروں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، اسے مزید بہتر بنانا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اگر ہم صرف لاہور کے سکولوں کا جائزہ لیں تو وہاں سکیورٹی کی صورتحال بہتر نہیں ہے۔
کسی کو نہیں معلوم کہ اگر خدانخواستہ کوئی مشکل صورتحال پیدا ہوجاتی ہے تو کیا کرنا ہے، اس سے کیسے نمٹنا ہے، رپورٹ کیسے کرنا ہے، بچوں کو محفوظ راستہ کیسے دینا ہے؟ اس وقت ہمیں تیاری کی اشد ضرورت ہے، ہمیں لوگوں کو سمجھانا اور تیار کرنا ہے، پھر ہی یہ دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکیں گے۔ ہمیں ملک اور ملک سے باہر اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید بہتر کرنا ہے اور سفارتی سطح پر بھی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتا ہے، آئندہ بھی جیتے گا، انشاء اللہ!
ڈاکٹر قیس اسلم
(ماہر معاشیات)
جب سے جنرل ضیاء الحق نے سوویت یونین کے خلاف امریکا کے تعاون سے لڑائی کا آغاز کیا تب سے آج تک، ہمارے ہاں دہشت گردی ختم نہیں ہوئی۔ کئی برس تک خیبر پختونخوا میں روزانہ دہشت گردی کے واقعات ہوئے ، پھر بیرونی طاقتوں نے بلوچستان نیشنل آرمی کی فنڈنگ کی تو بلوچستان میں بھی دہشت گردی شروع ہوگئی۔
ہندوستان سے ہماری لڑائی پرانی ہے،ا س کے ساتھ کئی جنگیں بھی ہوچکی ہیں جن کی وجہ سے ہمارے ملک میں مسائل پیدا ہوئے اور سافٹ ٹارگٹس پر دہشت گردی ہوئی۔ ہماری بہادر افواج نے دہشت گردی کے خلاف ملک بھر میں کارروائیاں کی ہیں، بڑے آپریشنز بھی کیے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں متعدد بڑے آپریشنز ہوچکے ہیں۔ امریکا کی افغانستان میں جنگ کے برے اثرات بھی پاکستان پر پڑے ہیں۔ یہاں طالبان بنے ، وہ استعمال ہوئے اور ہمارے لیے مزید مسائل پیدا ہوگئے۔ آج بھی طالبان کی وجہ سے دہشت گردی ہو رہی ہے، تحریک طالبان پاکستان یہاں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔
دہشت گردی کی ایک وجہ غربت بھی ہے۔ پاکستان میں غربت کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے، بے روزگاری بھی ہے۔ دہشت گرد جو افغانستان میں بیٹھے ہیں، جنہیں بھارت و دیگر مالی تعاون فراہم کر رہے ہیں،وہ 5 لاکھ سے 50 لاکھ روپے میں بچے خرید لیتے ہیں اور ان سے اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ عراق اور شام میں داعش بنی۔ اس کا خراسانی حصہ پاکستان اور افغانستان میں آیا ، تحریک طالبان پاکستان بھی یہاں موجود تھی۔
امریکا جب افغانستان سے گیا تو یہ سب افغانستان میں چلے گئے اور اب وہاں سے آپریٹ کرتے ہیں۔ طالبان حکومت ان سے فائدہ بھی اٹھاتی ہے۔ افغانستان میں بعض جگہ تو حکومتیں بھی مختلف گروہوں کی ہیں۔ رواں برس مئی میں ہم نے بھارت کو بدترین شکست دی، اس کے جہاز گرائے جس سے عالمی سطح پر اس کی سبکی ہوئی۔ اپنی خفت مٹانے کیلئے اس نے ان گروہوں کی مدد شروع کر دی ہے۔ جب ہم نے 3 ملین سے زائد افغان مہاجرین کو واپس بھیجنا شروع کیا تو ان کے مسائل پیدا ہوئے،ا فغانستان نے ان کا بدلہ بھی ہم سے لینا شروع کیا ہے۔
یہ سب دہشت گردی کی نئی لہر کے عوامل ہیں۔ ہم نے دہشت گردی کی جنگ میں 80 ہزار سے زائد قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے بچے محفوظ نہیں ہیں۔ پہلے آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ ہوا تھا، اب کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کیا گیا۔ اس مرتبہ شکر ہے کہ ہمارا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے سب محفوظ رہے اور دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ دہشت گرد ظالم لوگ ہیں۔ افغانستان میں ان لوگوں کا روزگار ہی قتل و غارت، اغواء برائے تاوان جیسی وارداتوں سے جڑا ہے۔
ہم ان کا قلع قمع تو کرتے رہے ہیں لیکن غربت کی وجہ سے دونوں اطراف کے لوگ استعمال ہوجاتے ہیں۔ دہشت گردی کی وجہ سے یہاں بیرونی سرمایہ کاری نہیں آتی۔ چین بھی رکا ہوا ہے، بڑی کمپنیاں یہاں سے جا رہی ہیں۔ ہم نے اپنی معیشت کو ٹھیک نہیں کیا۔ یہاں گورننس کے مسائل بھی ہیں۔ عوام اور حکومت کے درمیان عدم اعتماد کا معاملہ بھی ہے۔ صوبوں اور وفاق کے درمیان لڑائی بھی موجود ہے۔ فاٹا کے عوام کو ان کا حق نہیں مل رہا۔ بلوچستان کی معدنیات کا فائدہ ان کے عوام نہیں وڈیروں کو مل رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ ہماری تجارت تھی،ا سے بند کرنے سے نقصان ہو رہا ہے۔ انار 1500 روپے ، ٹماٹر 500 روپے اور پیاز 250 روپے فی کلو تک مہنگا ہوگیا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری فصلیں تو سیلاب کی نذر ہوگئیں، یہ سبزیاں افغانستان سے آتی تھیں، تجارت بند ہونے سے یہاں قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا۔ افغانستان اور ایران سے سمگلنگ تو ہو رہی ہے لیکن اصل تجارت کو نقصان ہوا ہے۔ اس وقت ہمیںخطے کے تمام ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے ساتھ مذاکرات اس لیے ڈیڈلاک کا شکار ہوئے کیونکہ افغان حکومت دہشت گرد گروہوں پر قابو نہیں پاسکتی۔میرے نزدیک گفتگو صرف ان گروہوں سے ہو سکتی ہے جو ہتھیار پھینک دیں، دہشت گردوں سے بات چیت نہیں ہوسکتی۔ ہمیں افغان مہاجرین کی واپسی کے معاملے کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔ ایسے بے شمار افراد ہیں جو یہاں کاروبار کر رہے ہیں، ان کی شادیاں یہاں ہوئی ہیں، بچے یہاں پیدا ہوئے، ان کے زندگی کے معاملات یہاں سے جڑے ہیں۔
انہیں فوری واپس نہ بھیجیں،ا س کا ہماری معیشت پر برا اثر پڑے گا۔ دہشت گردی اب اسلام آباد تک پہنچ چکی ہے ۔ یہ اس وقت پہنچی جب ملک میں 27 ویں آئینی ترمیم اور عالمی پارلیمانی کانفرنس ہو رہی تھی۔ ہم دنیا کو امن دکھا رہے تھے لیکن دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ ہوگیا۔ میرے نزدیک ہمیں بھارت کے ساتھ سنجیدگی سے بات کرنا ہوگی، اب جہاز گرانے کی باتیں چھوڑ کر تجارت کی طرف جانا چاہیے۔ ہمیں ایران کے ساتھ بھی تجارت کو فروغ دینا ہے۔ ہمیں سی پیک منصوبے کو آگے بڑھانا ہے، اس میں افغانستان کوبھی شامل کیا جائے۔ ہمیں خطے کے تمام ممالک کو انگیج کرنا اور تجارت کو فروغ دینا ہے۔ ہمیں اس خطے کے بچوں کو جدید تعلیم، ہنر اور روزگار دینا ہوگا۔ اگر یہ کام ہوگیا تو خطے سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔
ڈاکٹر زمرد اعوان
(ماہر امور خارجہ)
دہشت گردی کے حالیہ حملوں کے بارے میں پاکستان کا موقف یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کیلئے افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے جبکہ دوسری طرف افغان حکومت کا موقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کا معاملہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، اس میں افغانستان کی سرحد استعمال نہیں ہو رہی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ’بی ایل اے‘ کی پشت پناہی میں بھی افغانستان کا اہم کردار ہے۔
پاک افغان کشیدگی ختم کرنے میں قطر، سعودی عرب اور ترکیہ نے کردار بھی ادا کیا، معاہدہ بھی ہوا لیکن زیادہ دیر چل نہیں سکا۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ معاہدہ تو کرلیں لیکن اسے پورا کرنے کیلئے جس کمٹمنٹ کی ضرورت ہے وہ نہ ہو۔ یہاں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس خطے میں امریکا، یورپ اور مغربی طاقتیں جس طریقے سے متحرک رہیں اور افغانستان ہی وہ وجہ تھی جس کیلئے یہ طاقتیں یہاں آئیں، وہ حالات آج نہیں ہیں۔ اب خطے کو خود سے اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے اور ان مسائل کیلئے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے نسلی اور مذہبی حوالے سے بھی گہرے تعلقات ہیں۔
خاص طور پر پاکستان میں ایک بہت بڑی آبادی پشتون ہے، سرحدی وقبائلی علاقوں کے لوگوں کی دونوں ممالک میں آپس میں شادیاں اور رشتے داریاں ہیں۔ اس حساب سے دونوں ممالک کو بڑی احتیاط کے ساتھ مسائل کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اب بات صرف حکومتوں کی کشیدگی کی نہیں ہے بلکہ اس کا اثر دونوں ممالک کی آبادی پر بھی ہو رہا ہے۔ جب بھی پاک افغان کشیدگی ہوتی ہے تو بارڈر بند کر دیا جاتا ہے، تجارت روک دی جاتی ہے جس کا خاص طور پر سرحدی علاقوں میں رہنے والی آبادی پر برا اثر پڑتا ہے۔ یہ اس وقت زیادہ اہم اس لیے ہے کہ فاٹا کے یہ علاقے کچھ عرصہ قبل ہی خیبر پختونخوا میں ضم ہوئے ہیں۔
یہ اپنے حساب سے بہت سارے معاشی اور علاقائی مسائل سے گزر رہے ہیں لہٰذا ضروری یہ ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، کشیدگی جتنی بھی ہو، دونوں ممالک بعض معاملات پر اتفاق کر لیں جن میں سب سے پہلا یہ ہے کہ سرحد کسی بھی حالت میں تجارت کیلئے بند نہ کی جائے۔ بہت سارے ٹرک جو بارڈر پر رکے ہوتے ہیں ان میں پھل یا ایسی اشیاء ہوتی ہیں جو خراب ہو جاتی ہیں اور لوگوں کا بڑا نقصان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سرحدی آبادی کی معاشی اور انسانی حفاظت بہت ضروری ہے۔افغانستان سے بہت سارے لوگوں کو یہاں سے مدد کی ضرورت ہوتی ہے، ان کے خاندان یہاں ہیں، لوگ علاج کیلئے بھی یہاں آتے ہیں لہٰذا وہ پابندی سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ افغان سرزمین دہشت گرد ی کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہیے، دونوں ممالک کو معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے۔
بھارت کے ساتھ پاکستان کا جنگ کا ماحول رہا۔ اب افغانستان کے ساتھ مسائل پیدا ہو رہے ہیں، پاکستان یہاں سرحدی مسائل کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس کیلئے علاقائی تعاون کویقینی بنانا ضروری ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت یہ کا موقف یہ ہے کہ جب تک عوامی نمائندے پالیسی نہیں بنائیں گے تب تک اس خطے میں امن نہیں آسکتا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاہدوں کو لے کر اعتماد کا فقدان ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ ہونے کے باوجود حالات خراب ہوئے۔ دونوں ممالک کی معیشت اس قابل نہیں ہے کہ وہ جنگ کا بوجھ اٹھا سکیں۔ اگر جنگ ہوئی تو خطے میں پھیلے گی جس میں گروہ بندیاں بھی ہوں گی۔ ممکن ہے کہ بھارت افغانستان کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالے لہٰذا پاکستان اور افغانستان دونوں کو اس معاملے میں احتیاط کرنی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان خیبر پختونخوا افغانستان میں سکیورٹی فورسز مسائل پیدا ہو افغانستان کے دہشت گردی کے دہشت گردی کی دونوں ممالک اسلام ا باد پاکستان کا انٹیلی جنس کیڈٹ کالج کے درمیان کی وجہ سے کی ضرورت ضرورت ہے یہ ہے کہ نہیں ہو رہی ہیں کرنے کی ملک میں ہیں اور نہیں ہے کے ساتھ سے پہلے رہے ہیں کے خلاف دینا ہے کرنا ہے کیا گیا رہا ہے رہی ہے بھی ہو ہو رہی اور ان
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔