بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر متحدہ نے قرارداد سندھ اسمبلی میں جمع کرا دی
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر ایم کیو ایم نے قرارداد سندھ اسمبلی میں جمع کرا دی۔ قرارداد ایم کیو ایم کے رکن عامر صدیقی نے جمع کرائی۔
قرارداد کے مطابق بھارتی وزیر دفاع کا بیان تاریخی طور پر گمراہ کن اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔ سندھ پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے، سندھ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا۔
قرارداد کے متن کے مطابق ایسے بیانات کا مقصد خطے میں تناؤ پیدا کرنا ہے۔ وفاقی حکومت بھارتی وزیر دفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیان کو دنیا کے سامنے اٹھائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ نے قیام پاکستان سے بھی پہلے 1936 میں بمبئی پریذیڈنسی سے علیحدگی اختیار کی۔
گذشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی سندھ کے بارے میں بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی وزیر دفاع تاریخ سے ناواقف ہیں۔
اپنے بیان میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ پر بھارتی وزیر دفاع کا بیان سفارتی طور پر غیر ذمہ دارانہ ہے، بھارتی وزیر دفاع اپنی داخلی تقسیم پر توجہ دیں، ہمارے متعلق دن میں خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔