وزیراعلیٰ سندھ کی بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر کڑی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے سندھ کے متعلق حالیہ بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کل بھی پاکستان کا حصہ تھا، آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا، انہوں نے اس بیان کو نہ صرف تاریخی طور پر غلط بلکہ سفارتی سطح پر غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کے داخلی مسائل اور تقسیم پر توجہ دیں اور پاکستان کے بارے میں غیر حقیقی دعووں اور خوابوں کو ختم کریں، سندھ کے عوام اور پاکستان کی سرحدی سالمیت پر کوئی بھی بیان اثر انداز نہیں ہو سکتا۔
مراد علی شاہ نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ نے قیام پاکستان سے پہلے 1936 میں علیحدگی اختیار کی تھی اور یہ خطہ ہمیشہ پاکستان کا اٹوٹ انگ رہا ہے، عالمی برادری اور خطے کے ممالک کو بھی اس حقیقت کا احترام کرنا چاہیے کہ پاکستان کی حدود میں شامل ہر صوبہ غیر متزلزل اور ناقابل تقسیم ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کے صوبے متحد ہیں اور کسی بھی بیرونی بیان یا اشتعال انگیزی سے علاقائی اتحاد کو کمزور نہیں کیا جا سکتا، خطے میں امن اور استحکام کے لیے ممالک کو تاریخی حقائق اور بین الاقوامی سرحدوں کا احترام کرنا ناگزیر ہے۔
مراد علی شاہ نے آخر میں کہا کہ سندھ کے عوام اپنی شناخت، تاریخ اور سرحدی سالمیت کے حوالے سے پختہ یقین رکھتے ہیں اور کسی بھی بیرونی دعوے یا بیان سے ان کے جذبات متاثر نہیں ہوں گے،صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس سلسلے میں ہر ممکن اقدامات کریں گی تاکہ علاقائی اتحاد اور قومی وقار برقرار رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
سابق قومی کرکٹر وسیم اکرم، مصباح الحق، فخرِ عالم، سعید انور اور دیگر معروف شخصیات کے حج سفر پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخرِ عالم نے وضاحت کرتے ہوئے ناقدین کو جواب دے دیا۔
انہوں نے سر منڈوانے سے متعلق تنقید پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سوال کر رہے تھے کہ ہم نے سر کیوں نہیں منڈوائے۔ حج پر روانگی سے قبل ہم نے علمائے کرام سے رہنمائی لی تھی جنہوں نے ہمیں دو آپشن دیے تھے کہ یا تو مکمل سر منڈوا لیا جائے یا قصر کرائی جائے جس میں بالوں کا کچھ حصہ کاٹا جاتا ہے۔ ہم نے دوسرا طریقہ منتخب کیا۔
@timesofkarachi Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq ♬ original sound – Times of Karachiانہوں نے مزید کہا کہ دوسری تنقید یہ تھی کہ ہم حج پر آئے تھے یا پکنک منانے؟ حج ایک عبادت ہے اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں انسان عبادت بھی کرتا ہے، دوستوں سے ملتا جلتا بھی ہے، دعائیں بھی مانگتا ہے اور کبھی مسکراتا اور خوشی کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ سب بھی حج کے تجربے کا حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری لوگوں سے گزارش ہے کہ تنقید کرنے سے پہلے ان معاملات کو اچھی طرح سمجھیں۔ ہم نے نوجوانوں کی رہنمائی اور انہیں حج کی ترغیب دینے کے لیے ویڈیوز بنائیں تاکہ وہ اس بابرکت سفر کی منصوبہ بندی کر سکیں۔
حج کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخرِ عالم نے کہا کہ ہم حج مکمل کر چکے ہیں اور لوگ ہم سے مختلف سوالات کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں حج پر جانے کی ترغیب کس چیز نے دی؟
اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا تھا کہ جب مجھے اندر سے آمادگی محسوس ہوگی تب میں حج کے لیے جاؤں گا۔ چونکہ آپ اور مصباح پہلے ہی جا رہے تھے اس لیے میں نے بھی ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میری عمر جلد 60 سال ہونے والی ہے اس لیے مجھے لگا کہ یہی مناسب وقت ہے۔
مصباح الحق نے بھی اپنے حج کے تجربے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک خاص سفر تھا اور دوستوں کے ساتھ اس روحانی تجربے کو شیئر کرنے سے یہ یادگار لمحہ مزید خوبصورت بن گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حج حج 2026 فخر عالم مصباح الحق وسیم اکرم