خیرپور: شاہ عبداللطیف یونیورسٹی میں بیڈمنٹن چمپئن شپ کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خیرپور(جسارت نیوز ) شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور میں بیڈمنٹن چیمپئن شپ کا افتتاح صوبائی وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سندھ محمد اسماعیل راہو نے کیاافتتاحی تقریب میں مختلف یونیورسٹیوں کی ٹیموں نے شرکت کی، جبکہ اس موقع پر صوبائی وزیر نے میڈیا سے گفتگو بھی کی اسماعیل راہو نے کہا کہ لطیف یونیورسٹی میں بیڈمنٹن چیمپئن شپ کا انعقاد انتہائی خوش آئند قدم ہے اور اس میں ملک بھر سے آنے والی یونیورسٹی ٹیموں کی شمولیت قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج یہاں پورا پاکستان موجود ہے، جو قومی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے آئینی معاملات پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کا ڈرافٹ تیار بھی نہیں ہوا تھا کہ بلاوجہ گفتگو شروع کر دی گئی اور سارا الزام پیپلزپارٹی پر ڈال دیا گیا کہ وہ سندھ کو تقسیم کرنا چاہتی ہے انہوں نے واضح کیا کہ پیپلزپارٹی نے کبھی سندھ کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی کرے گی انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق نیا صوبہ تبھی بن سکتا ہے جب سندھ اسمبلی دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کرے 27ویں آئینی ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے آگے لائی گئی ہے اسماعیل راہو کے مطابق پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار حاصل ہے، ماضی میں ڈکٹیٹروں کو بھی آئین میں تبدیلی کے اختیارات دیے گئے لیکن اگر آج کوئی آمر ایسی کوشش کرے گا تو پیپلزپارٹی اسے مسترد کر دے گی سندھ کی تقسیم کے معاملے پر انہوں نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ سندھ تقسیم ہو ایم کیو ایم کو بھی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے کراچی، حیدرآباد یا بدین ہر شہری کو اپنے علاقے کے لیے بات کرنے کا حق ہے، مگر لسانیت یا سندھ کی وحدت کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جائے گی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔