اسلام نے خاندانی نظام کو مضبوط بنیادیں فراہم کی ہیں، ڈاکٹر عبدالحفیظ سموں
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت) جمعیت اہل حدیث صوبہ سندھ کے ناظمِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالحفیظ سمعوں نے کہا ہے کہ اسلام نے خاندانی نظام کو مضبوط بنیادیں فراہم کی ہیں اور رشتوں کی پاس داری کو لازمی قرار دیا ہے ولی کے بغیر نکاح شرعاً جائز نہیں اور نہ ہی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کے برخلاف ولی کے بغیر شادی کرائیوہ جمعیت اہل حدیث ٹنڈوجام کی سیرت کانفرنس اور حافظ عبدالرحمٰن کمہار کی دستار بندی کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے انھوں نے کہا کہ اسلام نے عزت وعصمت کے تحفظ اور پاکیزہ زندگیگزرنے کہ لیے ایسا خاندانی ڈھانچہ عطا کیا ہے جس میں ہر فرد کے لیے احترام موجود ہے، جبکہ مغربی طاقتیں اس مضبوط نظام کو تباہ کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں اسلام بچوں سے رائے لینے کی اجازت تو دیتا ہے، لیکن ایسی کھلی آزادی نہیں دیتا جس سے معاشرتی بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ ہواور معاشرے میںبدپھیلے انھوں نے کہا کہ ولی کی مرضی کے بغیر شادی جائز نہیں اورعدالت کا فرض ہے کہ وہ انصاف فراہم کرے، نہ کہ ایسے فیصلے کرے جو خاندانی نظام کو کمزور بنائیں اور عدالت کو شریعت یہ اختیار نہیں دیتی کہ وہ بغیر ولی کی مرضی کے بغیر نکاح کرائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ فیصلہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز اب رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں بھی نرمی کرتے ہوئے انہیں رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فارمیسیوں، اسپتالوں اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئے اوقات کار کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مزید ہدایات جلد جاری کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟