data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کا لاہور مینار پاکستان میں اجتماع عام کے دوسرے روز سیشن کے آغاز میں لاکھوں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خاندان، وصیت اور وراثت میں چلنے والی پارٹیاں کبھی بھی انقلاب نہیں لاسکتیں،جماعت اسلامی نظریاتی وجمہوریت جماعت ہے،حکمران جمہوریت کی نرسری کالج و یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹس کے انتخابات نہیں کرانا چاہتے، خاندان، وصیت اور وراثت پر چلنے والی پارٹیاں نوجوانوں سے خوف زدہ ہیں،مسلم لیگ ن کے ظالمانہ بلدیاتی ایکٹ کے ذریعے تمام اختیارات پر قبضہ کرنا چاہتی ہے، میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز سن لیں کہ پنجاب کے ظالمانہ ایکٹ کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے، ایکٹ کے خلاف ملک بھر میں بھرپور تحریک چلائیں گے، پنجاب کے تمام شہریوں میں صاف وشفاف بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اور تمام اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں،جب نچلی سطح پر اختیارات منتقل کیے جائیں گے تو اجارہ داری نظام کا خاتمہ ہوگا،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری بہت بڑے جاگیردار اورجمہوریت کے دعویدار ہیں،وہ بتائیں کہ انہوں نے سندھ کے ہاریوں کو ان کے حقوق کیوں نہیں دیے؟،سندھ کے بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم کیوں نہیں دی جاتی؟، ڈیلی ویجز پر کام کرنے والی خواتین کو ان کے حقوق کیوں نہیں دیے جاتے؟،پورے ملک میں سرمایہ دارانہ ذہنیت کے تحت غریب کو مزید غریب کیا جارہا ہے،سندھ میں سرمایہ دارانہ ذہنیت کے خاتمے اور ظلم کے نظام کے خاتمے کے لیے بھی بدل دو نظام تحریک کو چلانا ہوگا، معیشت، تجارت یا تعلیم ہو سب سے جاگیرداروں اوروڈیروں کا خاتمہ کرنا ہوگا، آئین کے آرٹیکل 140-Aکے تحت تمام اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنا اور مالی و انتظامی معاملات فراہم کرنا ہے، مسلم لیگ ن کے صدرمیاں محمد نواز شریف اول تو پنجاب کے شہروں میں انتخابات ہی نہیں کرانا چاہتے اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لیے کسی صورت تیار نہیں،میاں محمد نواز شریف تمام اختیارات جاگیرداروں، وڈیروں اور خانوں کو دے کر مزید انہیں طاقت ور بنارہے ہیں، کارکنان ظلم کی ہر شکل کو بدلنے کے لیے جدوجہد کو تیز کریں،ہم آئین و دستور کے مطابق قرآن و سنت کے خلاف تمام ترامیم کو مسترد کرتے ہیں،ہمیں موقع ملا تو ملک کے آئین و دستور کے مطابق اختیارات گراس روٹ لیول تک پہنچائیں گے،گلی اور محلے کی سطح پر عدل و انصاف قائم کرنے کے لیے کمیٹیاں بنائیں گے، عدالتی نظام کو آئین ودستور کے مطابق کریں گے،کارکنان اختلاف کو اختلاف کی طرح رکھیں، پی ٹی آئی کا ورکر ہو یا مسلم لیگ ن کا سب کو اپنے ساتھ ملائیں اور بدل دو نظام تحریک کا حصہ بنائیں، کارکنان اصولی موقف کو قائم رکھتے ہوئے سب کو اپنے ساتھ لے کر چلیں گے تو بہت جلد انقلاب آپ کو دستک دے گا، مملکت خداداد پاکستان میں پاکستان کی ریاست کا آئین و دستور بنایا تھا،آئین و دستور کے مطابق سب کو یکساں نظام تعلیم میسر ہوگی، مزدوروں کو ان کے حقوق دیے جائیں گے، آئین و دستور کے مطابق خواتین کو ان کے بنیادی حقوق دیے جائیں گے، ملک سے آئے ہوئے نوجوانوں کو لاکھوں کی تعداد میں شرکت کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں،جماعت اسلامی کے کارکن سردی گرمی اور ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کرلیں گے لیکن ظلم کے نظام کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے، بھٹو اور عمران خان نے جاگیردار کے خلاف نعرہ لگایا تھا لیکن انہی لوگوں کو اپنا سرپرست بھی بنالیا تھا، جاگیرداروں اور وڈیروں کو اپنے سروں پر بٹھا کر تبدیلی کا نعرہ نہیں لگایا جاسکتا،ہم کسی کی آشیر باد سے نہیں بلکہ عوامی رائے سے اقتدار میں آئیں گے، پہلے جاگیردار اور اب کارپوریٹ جاگیردار ہیں جو عوام کو مزید غلام بنارہے ہیں، کارپوریٹ سسٹم سے جاگیرداروں اوروڈیروں کو خیر آباد کرکے کسانوں کو ان کی محنت کا حصہ دلوائیں گے،کسانوں کی قسمت میں غلام بن کر رہنا نہیں ہے بلکہ کسانوں ان کا حصہ ملنا چاہیے،عوام جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑے ہوں،جماعت اسلامی عوام کے حقوق دلوائے گی، مشرقی پاکستان میں 4 بڑی جماعت میں اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات ہوئے اور سب میں اسلامک چھاترو کامیاب ہوئی ہے، یہ کامیابی اسلامی تحریکوں کی کامیابی ہے،جماعت اسلامی کی تحریک بدل دو نظام کی تحریک بھی اسلامی تحریک کا حصہ ہے۔ اجتماع عام کے دوسرے روز لاکھوں شرکاء سے اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ حسن بلال ہاشمی اورمنتظم اعلیٰ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان مولانا محمد افضل نے بھی خطاب کیا،امیرجماعت اسلامی ضلع بہاولنگر ارسلان خان خاکوانی نے زراعت کے موضوع پر،صدر نیشنل لیبر فیڈریشن شمس الرحمن سواتی نے محنت کشوں کے مسائل کے موضوع پر، چیئرمین پلڈاٹ پاکستان نے بلدیاتی نظام پر اظہار خیال کیا،اجتماع عام میں معروف صنعت کار اور ماہرین اقتصادیات نے صنعت و معیشت کے چیلنجز اور حل پر قرارداد پیش کی،امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اسٹیج سے نعرے لگائے جس پر لاکھوں شرکاء نے بھرپور جواب دیا،اس موقع پر پوزیشن ہولڈرز قومی ہیروز کے لیے تحسین ماڈل تقسیم نیشنل ایوارڈ کا بھی انعقاد کیا،حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہاکہ اجتماع میں ملک بھر سے آئے ہوئے عوام لاکھوں کی تعداد میں شریک ہیں،بدل دو نظام کے حوالے سے لاکھوں شرکاء پر عزم ہیں، آئین و دستور کے مطابق حاکمیت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہے لیکن انسانوں کا نام صرف نیابت کرنا ہے،کسی بھی انسان کو اختیار نہیں کہ زمین پر خدا بن کر عوام پر ظلم کرے،اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام ہی قائم ہوگا،کوئی شہنشا اور پالن ہار نہیں، ربوبیت صرف اور صرف اللہ کی ہے،مینار پاکستان کے سائے تلے لاکھوں انسان اس بات کا اعلان کررہے ہیں کہ رب کے سوا کسی کی معبودیت قبول نہیں کریں گے،ہم امریکا اور اس کے حواریوں کو خوش کرنے کے لیے بلکہ اللہ کی حاکمیت اور اس کے نظام کو نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں، بدقسمتی سے ہمارے حکمران امریکا سے ڈرتے ہیں اور نعوذ باللہ امریکا کو خدا سمجھتے ہیں،انہوں نے کہاکہ حاکمیت کا مطلب یہی ہے کہ اللہ اور اس کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق دنیا کے نظام کو قائم کرنا ہے،حکمران طبقہ اللہ اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کرنے کے بجائے امریکا کی طرف دیکھتا ہے،اگر حکمران طبقہ اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتا تو 27 ویں ترمیم پارلیمنٹ میں لائی ہی نہیں جاتی،حکمران عوام سے خوف زدہ ہوکر ایسی ترامیم پاس کرارہے ہیں جس سے وہ مزید ظلم کرسکیں ،رب کے نظام کے مطابق جب فاطمہ بنت محمد کو استثنا حاصل نہیں تو ہمارے ملک کا چاہے صدر ہو یا آرمی چیف کسی کو بھی استثنا حاصل نہیں ہونا چاہیے،ہم ایسے نظام کے حامل لوگ ہیں جس میں جاگیردار، وڈیرے، خانوں اور جرنیلوں کا نظام نہ ہو، اگر کوئی بندوق کے ذریعے قبضہ کرے گا تو اس کے خلاف ہمہ جہت تحریک چلائی جائے گی، ہمہ جہت تحریک کے لیے ایسی قیادت ضرورت ہے جو عوام کے ساتھ اور عوام اس کے ساتھ ہو، عوام کو ایسی قیادت کی ضرورت نہیں جو صبح اور شام موقف بدلتے ہیں اور جیل سے بیٹھ کر فرمان جاری کرتے ہیں، ہمارے حکمران انگریزوں کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق حکمرانی کررہے ہیں،آج وڈیرے اور جاگیردار اور ان کی نسلیں عوام پر حکمرانی کررہی ہیں،بیوروکریسی کا نظام بھی یہی ہے کہ یہ لوگ عوام کو خادم اور خود حکمران بن جاتے ہیں،سارے اختیارات پر وڈیرے،جاگیردار، خوانین اور بیوروکریٹ کے پاس ہیں جو اپنے سے اوپر کے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے 25 کروڑ عوام کا استحصال کرتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ حکمران نوجوانوں کی تعلیمی نسل کشی کررہے ہیں اور قوم کو جاہل بنارہے ہیں،بد قسمتی سے پاکستان میں کسی بھی سیاسی پارٹی کا ایجنڈے میں تعلیم نہیں ہے، ملک میں 2 کروڑ 62 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں،پڑھے لکھے حکمران قوم کو جاہل بنارہے ہیں اور اپنے بچوں کو باہر پڑھارہے ہیں،کارکنان گلی گلی، محلوں میں جاکر پیغام پہنچائیں کہ 78 سال سے مسلط حکمران قوم کو جاہل بنا کر خود اقتدار کے مزے لے رہے ہیں، عوام کے ٹیکسوں کے پیسے عوام پر خرچ کرنے اور عوام کو بنیادی حقوق دینے کے بجائے ذاتی بینک بیلنس بھرنے میں لگے ہوئے ہیں، ہم ایسا نظام چاہتے ہیں کہ جس میں پوری قوم کے لیے یکساں نظام تعلیم ہو، 50 ارب روپے اگر تعلیم کے بجٹ پر خرچ کیے جائیں اور بچوں کو مفت و معیاری تعلیم فراہم کی جائے تو قوم ترقی کرے گی،ہمارے حکمران آئی ٹی کے میدان میں بھی نوجوانوں کو آگے بڑھنے نہیں دیتے، نوجوانوں میں پوٹینشل موجود ہے، بنوقابل پروگرام کے تحت پاکستان میں 12 لاکھ عوم رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، حکومت و ریاست اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہے لیکن نوجوانوں کو تعلیم دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

 

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا ئین و دستور کے مطابق حافظ نعیم الرحمن تمام اختیارات جماعت اسلامی پاکستان میں نچلی سطح پر کرنے کے لیے بنارہے ہیں کررہے ہیں اور اس کے کو ان کے کے حقوق نظام کو نظام کے کے نظام عوام کو اللہ کی ہیں اور کے خلاف کریں گے کا حصہ

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ناتمام (آخری قسط)
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا