محکمہ ریونیو کے افسران کے خلاف خلیل قمبرانی واہل خانہ کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)جام نواز علی کے گاؤں بیرانی کے رہائشی بھائی خلیل قمبرانی اور نعیم قمبرانی نے اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ اپنے سسرالی رشتہ دار نظر محمد عرف ماسٹر حبیب اللہ کی جانب سے محکمہ ریونیو کی مبینہ ملی بھگت سے پلاٹ کے کاغذات تبدیل کرانے اور ملکیت کے تنازعہ پر جان سے مارنے کی دھمکیوں کے خلاف حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ ان کے والد ڈاکٹر کریم بخش قمبرانی کی زندگی میں ہی ان کے سمدھی نظر محمد عرف ماسٹر حبیب اللہ نے والد کے 3 ہزار 55 اسکوائر فٹ کے پلاٹ کے جعلی کاغذات تیار کروا کر مگسی برادری کے افراد کو فروخت کر دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ 2012ء میں نظر محمد نے محکمہ ریونیو اہلکاروں کی ملی بھگت سے والد ڈاکٹر کریم بخش کے جعلی دستخط کرکے 4 ہزار اسکوائر فٹ پلاٹ کے دستاویزات بنوائے، جس کے خلاف کیس عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔متاثرین کے مطابق مذکورہ پلاٹ پر ان کا گھر تعمیر تھا جسے منہدم کرکے اس کا لوہا، گارڈر اور دیگر سامان مسلح افراد کی مدد سے نظر محمد لے گیاہے اور اب پلاٹ خالی پڑا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عدالت میں کیس چلنے کے باوجود نظر محمد نے پلاٹ کو مگسی برادری کے محمد بچل مگسی اور رانو مگسی کے ہاتھ بیچ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد نظر محمد اور مگسی برادری کے افراد نے کیس واپس نہ لینے کی صورت میں انہیں جان سے مارنے اور اغوا ء کی سنگین دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں جس سے انہیں جان و مال کا خطرہ لاحق ہے۔انہوں نے ایس ایس پی سانگھڑ اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ معاملے کا نوٹس لے کر انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔