ماتلی کی اہم شاہراہیں بدنظمی اورانتظامی غفلت کا شکار ہوچکی ہیں
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (نمائندہ جسارت)ماتلی شہر کی اہم شاہراہیں اس وقت بدنظمی اور انتظامی غفلت کی واضح مثال بنی ہوئی ہیں جہاں سڑکوں کے عین درمیان نصب بجلی کے کھمبے ٹریفک کی روانی اور شہریوں کی آمدورفت کے لیے مسلسل پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ مین حیدرآباد روڈ، اسٹیشن روڈ اور ٹنڈو غلام علی روڈ سمیت شہر کی دیگر گنجان آباد گلیوں میں کھمبوں کی درمیان میں موجودگی نے نہ صرف ٹریفک کو شدید متاثر کیا ہے بلکہ حادثات کے خطرات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ شہریوں کے مطابق روزانہ ہزاروں گاڑیاں ان سڑکوں سے گزرتی ہیں لیکن سڑک کے بیچوں بیچ کھڑے بجلی کے کھمبوں کے باعث گاڑیوں کا رخ بار بار بدلنا پڑتا ہے جس سے ٹریفک جام کی صورتحال عام ہو چکی ہے۔شہری حلقے اس بات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان کھمبوں نے دکانداروں کو تجاوزات پھیلانے کا موقع فراہم کیا ہے اور بیشتر مقامات پر پولوں کے گرد ریڑھی بانوں اور دکانداروں نے اپنے سامان کے ڈھیر لگا کر فٹ پاتھ اور سڑک کے بڑے حصے پر قبضہ جما رکھا ہے جس سے پیدل چلنے والوں کے لیے گزرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر یہ کھمبے سڑک کے کنارے منتقل کر دیے جائیں تو تجاوزات میں خود بخود کمی واقع ہوگی اور ٹریفک کی صورتحال بھی بہتر ہو جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔