Islam Times:
2026-06-03@00:51:11 GMT

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ریگولیشنز میں ترامیم کی منظوری

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ریگولیشنز میں ترامیم کی منظوری

پی ایس ایکس پر لازم ہوگا کہ وہ منظور شدہ ترامیم کے تحت اپنی ویب سائٹ پر تمام درج شدہ کمپنیوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں کو عوام کیلئے ظاہر کرے، اس سے سرمایہ کار بہتر فیصلے کر سکیں گے اور مارکیٹ کے تمام شرکاء کیلئے معلومات میں شفافیت بھی بڑھے گی۔ اسلام ٹائمز۔ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے ریگولیشنز میں ترامیم کی منظوری دے دی، ان تبدیلیوں کا مقصد مارکیٹ میں شفافیت بڑھانا، سرمایہ کاروں کا تحفظ بہتر بنانا اور شریعت کے مطابق سرمائے کی مارکیٹ کا مضبوط نظام قائم کرنا ہے، پی ایس ایکس پر لازم ہوگا کہ وہ منظور شدہ ترامیم کے تحت اپنی ویب سائٹ پر تمام درج شدہ کمپنیوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں کو عوام کیلئے ظاہر کرے، اس سے سرمایہ کار بہتر فیصلے کر سکیں گے اور مارکیٹ کے تمام شرکاء کیلئے معلومات میں شفافیت بھی بڑھے گی۔

مزید یہ کہ منظور شدہ ترامیم کے تحت درج شدہ کمپنیوں کیلئے لازم ہوگا کہ وہ اپنی آمدنی، قرضوں اور سرمایہ کاری سے متعلق تمام شریعت پر مبنی معلومات براہِ راست پی ایس ایکس کو فراہم کریں۔ اس سے پی ایس ایکس کو درست اور بروقت معلومات حاصل ہوں گی، جس کے نتیجے میں کے ایم آئی آل شیئر انڈیکس میں شمولیت کیلئے شریعت کے مطابق اسکریننگ زیادہ مؤثر طریقے سے کی جا سکے گی اور اسلامی انڈیکسز کی ساکھ اور درستگی میں بھی بہتری آئے گی۔ مزید شفافیت کے فروغ کیلئے پی ایس ایکس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شریعت انڈیکسز خود یا کسی آزاد تیسرے فریق کے ذریعے ترامیم کی تاریخ سے 12 ماہ کے اندر تیار کرے اور ان کا نظام برقرار رکھے۔

یہ ترامیم شریعت کے مطابق بروکریج خدمات کی پیشکش میں بھی سہولت فراہم کرتی ہیں اور شریعہ کے مطابق اکاؤنٹ کھولنے کے وقف فارمز (کسٹمر ریلیشن شپ فارمز اور سہولت اکاؤنٹ اوپننگ فارمز) متعارف کراتی ہیں۔ اس سے سرمایہ کاروں کیلئے اسلامی تجارتی اکاؤنٹ کھولنے میں آسانی ہوگی یہ اصلاحات ایس ای سی پی  کی ایک زیادہ شفاف، موثر، اور جامع کیپٹل مارکیٹ کی تعمیر کیلئے مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہیں، جو پاکستان میں شریعہ کے مطابق سرمایہ کاری کے قابل اعتماد مواقع کیلئے سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو مؤثر طریقے سے پورا کرتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پی ایس ایکس کے مطابق

پڑھیں:

کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری