ملک بھر میں شوگر کے ڈاکٹرز کی کمی ہے، ، توجہ دی جائے، ڈاکٹر ثانیہ بشیر
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ماہر امراض شوگر و سی ای اوڈائبیٹیزٹیلی کیئرسینٹرڈاکٹر ثانیہ بشیرنے کہاہے کہ حمل کے دوران شوگر کا شکار ہونے والی خواتین آئندہ پانچ سال کے دوران شوگر کے مرض میں مبتلا ہوجاتی ہیں خواتین حمل کے ٹہرنے سے پہلے اپنا معائنہ کرانے کے ساتھ ہرتین ماہ میں شوگر کولیسٹرول اور گردوں کا ٹیسٹ لازمی کرائیں، پاکستان میں شوگر کا مرض عام ہوتا جارہا ہے کمیونٹی سطح پر آگاہی مہم کی اشد ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈائبیٹیزٹیلی کیئرسینٹر کے تحت حیدرآباد میں دوسری ڈیجیٹل ہیلتھ کانفرنس سے اپنے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر شرکا کیلئے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں شرکا کے مفت بلڈ پریشر، وزن اور شوگر کے ٹیسٹ بھی کئے گئے۔ ڈاکٹر ثانیہ بشیر نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ سے زائد افراد شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں جن کیلئے ملک بھر میں کم وبیش ایک ہزار ڈاکٹرزہیں جو کہ انتہائی ناکافی ہیں لہذااس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے، ٹیلی کیئر کی موبائل ایپ کی سہولت سے دنیا بھر کے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں تمام ڈیٹا سینٹر لائز ہوگا جو بہت ضروری ہے، ٹیلی کیئر ملک کا وہ واحد ادارہ ہے جو گھر بیٹھے شوگر کے مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کررہا ہے کیونکہ شوگر کے حوالے سے پوری قوم کو خطرات لاحق ہیں اور چیلنجز کا سامنا ہے،موٹاپا بلڈ پریشر کولیسٹرول تمباکو نوشی انفیکشن نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ شوگر بڑھنے کی بنیادی وجہ ہیں جبکہ زیادہ بھوک وپیاس کا لگنا اور بار بار پیشاب کا آنا شوگر کی علامات میں شامل ہیں اور اگرشوگر کی ادویات کام کرنا چھوڑ دیں تو شوگر کے مریض کو انسولین پر آنا پڑتا ہے۔لہذا فائبر ڈائٹ کو زندگی کا لازمی حصہ بنائیں فاسٹ فوڈ بیکری آئیٹم،فائن آٹا معدہ اور چینی سے بنی ہوئی چیزوں کو فوری ترک کرکے متوازن غذائوں کا استعمال اور ورزش کو معمول بنائیں ان باتوں پر عمل کرکے شوگر کنٹرول کی جاسکتی ہے لیکن مکمل ختم نہیں۔ ڈاکٹر ثانیہ کے پیش نظر شوگر کے مریضوں کو گھر بیٹھے علاج کی غرض سے ڈیجیٹل ایپ روشناس کرائی بشیر نے کہاکہ ٹیلی کئیر سال 2020ء میںاپنے قیام سے اب تک شوگر کے حوالے سے لوگوں کو آگاہی فراہم کررہا ہے،اب تک 20 کے قریب اسکولز میں آگاہی پروگرامز کا انعقاد کیا جا چکاہے،ٹیلی کئیر نے عوام کی سہولتہے۔ کانفرنس سے کنٹونمنٹ بورڈ کے ڈاکٹر غلام محمد ابڑو اور ڈاکٹر منیرہ رفیق راجپوت نے بھی خطاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر ثانیہ شوگر کے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز