اسحاق ڈار کی ایرانی سیکرٹری علی لاریجانی سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم سینٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان میں ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹر علی لاریجانی سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مختلف شعبوں میں مضبوط بنانے اور علاقائی و بین الاقوامی امور میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی، ایران نے مصالحتی کردار کی پیشکش کردی
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور اقتصادی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں اور دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 received Dr.
Both sides reaffirmed commitment to deepening bilateral… pic.twitter.com/W70HfuLrVr
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) November 25, 2025
ڈاکٹر لاریجانی نے بھی اس موقع پر تعلقات کی مزید ترقی اور دو طرفہ مفادات کے تحفظ میں تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر نے اپنے ایکس پوسٹ میں ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کے اس دورے کو بے نظیر قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر پابندیوں کی بحالی سے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کا خطرہ ہے، پاکستان
اپنی ایک ایکس پوسٹ میں رضا امیری مقدم نے لکھا کہ یہ دورہ ایک تاریخی موڑ اور اہم لمحہ ثابت ہوگا، جس کے ذریعے دونوں برادر اقوام کے مضبوط اور آزمائے ہوئے تعلقات ایک نئے اسٹریٹیجک مرحلے میں داخل ہوں گے۔
ایرانی سفیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں تیز رفتار تبدیلیوں اور اس خطے کے نظام میں جدید تحرک کے پیش نظر ایران اور پاکستان کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اسٹریٹیجی کی تیاری پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار ایران باہمی تعاون پاکستان دو طرفہ مفادات ڈاکٹر علی لاریجانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نائب وزیر اعظم وزیر خارجہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار ایران باہمی تعاون پاکستان دو طرفہ مفادات ڈاکٹر علی لاریجانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔