سرینگر کے قلب میں اس مقدار دھماکہ خیز مواد پولیس اسٹیشن کیسے پہنچایا گیا، عمر عبداللہ کا سوال
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
وزیراعلٰی نے کہا کہ کن حالات میں دھماکہ خیز مواد یہاں پہنچایا گیا، کیسے تحقیقات ہوئی، دھماکہ کیسے ہوا، اس معاملے پر جوابات جلد سامنے آئینگے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے منگل کو نوگام سرینگر پولیس اسٹیشن میں حادثاتی دھماکے میں ہوئے زخمی افراد کی عیادت کی۔ سرینگر کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج زخمیوں کو فراہم کئے جا رہے علاج و معالجہ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوے وزیراعلٰی نے کہا کہ اس بلاسٹ کی تحقیقات شروع ہوگئی ہے اور امید ہے کہ لوگوں کو جلد جواب ملے گا۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے پولیس اسٹیشن میں ہوئے دھماکے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہوا، جس میں قیمتی جانیں چل گئیں۔
انہوں نے کہا کہ کن حالات میں دھماکہ خیز مواد یہاں پہنچایا گیا، کیسے تحقیقات ہوئی، دھماکہ کیسے ہوا، اس معاملے پر جوابات جلد سامنے آئیں گے اور اس معاملے پر مقامی اسپتال نے بہتر اور اچھ رول ادا کیا، جو قابل ستائش ہے۔ جانی نقصان پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے حادثے میں فوت ہوئے مقامی درزی کے اہل خانہ کو سرکاری نوکری فراہم کرنے کی بھی وکالت کی۔ انہوں نے کہا "میں افسران سے کہوں گا کہ اس معاملے پر ماضی کی طرح متاثرہ کے اہل خانہ کو سرکاری نوکری فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں"۔ تعمیری لحاظ سے ہوئے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس حوالے سے وہ پروسیجر کے مطابق ہی رقم ادا کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمر عبداللہ نے اس معاملے پر نے کہا کہ
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔