آزاد کشمیر: ن لیگ اور پیپلز پارٹی یا تو سرنڈر کریں یا تحریکِ عدم اعتماد پیش کریں، خواجہ فاروق احمد
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
آزادکشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے حکومتی نظام مکمل طور پر مفلوج ہے، جس پر اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد نے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں پر شدید تنقید کی ہے۔
خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ دفاتر بند ہیں، اقتدار کی لڑائی عروج پر ہے اور عوام بے یقینی کا شکار ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی پر زور دیا کہ یا تو سرنڈر کریں یا تحریکِ عدم اعتماد پیش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ چھ ماہ سے جاری اقتدار کی جنگ ختم ہونی چاہیے کیونکہ عوام اس افراتفری سے تنگ آچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: فاروق حیدر نے وزیراعظم آزاد کشمیر سے بڑا مطالبہ کردیا
انہوں نے کہا کہ ترقیاتی عمل مکمل طور پر ٹھپ ہے، محکمہ جات کے فنڈز منجمد ہیں اور بے روزگاری عروج پر ہے، جس کی وجہ سے پڑے لکھے نوجوان شدید فرسٹریشن کا شکار ہیں اور ہر ضلع میں احتجاج معمول بن گیا ہے۔
خواجہ فاروق احمد نے 27ویں ترمیم کو پاکستان کے آئین 1973 کو دفن کرنے کے مترادف قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ آزادکشمیر کے معاملات مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے لیے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے تحریکِ عدم اعتماد پر دستخط کرنے والے وزراء پر بھی تنقید کی کہ وہ اب بھی کابینہ میں براجمان ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم آزاد کشمیر کے نام کا اعلان اسلام آباد سے نہیں بلکہ کشمیر سے ہوگا، بلاول بھٹو
اپوزیشن لیڈر نے طنز کرتے ہوئے کہا، کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے اور وزیراعظم پر الزام لگایا کہ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری نہ کر کے آئین کی خلاف ورزی کی۔
خواجہ فاروق احمد نے مطالبہ کیا کہ جولائی 2026 کے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو فوری فعال کیا جائے اور اسلام آباد کی سیاست چھوڑ کر آزادکشمیر کے عوامی مسائل پر توجہ دی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خواجہ فاروق احمد نے انہوں نے
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔