اسلام آباد کچہری کے باہر ہونے والے حملے کا ماسٹر مائنڈ نور ولی محسود تھا : وفاقی وزیر کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں کچہری کے باہر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات کی پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود نے کی تھی۔ حملہ آور عثمان شنواری ننگرہار افغانستان کا رہائشی تھا، جسے ساجد اللہ عرف شینا نے پاکستان لایا اور خودکش جیکٹ فراہم کی۔تحقیقات کے مطابق آئی بی اور سی ٹی ڈی نے حملے کے صرف 48 گھنٹوں کے اندر چار ملزمان ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر کو گرفتار کیا۔ ساجد اللہ عرف شینا نے افغانستان میں مختلف تربیتی کیمپوں میں تربیت حاصل کی تھی اور خودکش حملے کی منصوبہ بندی داد اللہ نامی شخص کے ذریعے کی گئی۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ دہشتگرد بڑا نقصان کرنا چاہتے تھے لیکن ناکام رہے اور حملہ اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔ یہ گرفتاری دہشتگردی کے خاتمے اور ملک میں سیکورٹی کی مضبوطی میں اہم کامیابی تصور کی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔