اسلام آباد کچہری حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود نور ولی محسود نے کی تھی: وزیر اطلاعات WhatsAppFacebookTwitter 0 25 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کچہری کے باہر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود نے کی تھی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا 11 نومبر کو اسلام آباد کے اندر بڑا نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، اس واقعہ کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، ہماری سیکورٹی ایجنسیاں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پاک فوج پوری طرح الرٹ ہیں۔

ان کا کہنا تھا اسلام آباد کچہری کے باہر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، اسلام آباد کے مضافات میں پہلی جگہ ملی جسے خود کش حملہ آور نے ٹارگٹ کیا، آئی بی اور سی ٹی ڈی نے حملے کے فوری بعد 4 ملزمان کو گرفتار کیا، سی ٹی ڈی نے ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر کو گرفتار کیا۔

ان کا کہنا تھا ہینڈلر ساجد اللہ عرف شینا خودکش حملہ آور اور جیکٹ کو لے کر آیا، دہشتگردوں نے اسلام آباد کے مضافات کو ٹارگٹ کیا، حملے کے 48 گھنٹوں کے اندر 4 ملزمان گرفتار کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور افغانستان کا رہائشی ہے، پکڑے گئے دہشتگرد اس خودکش حملے میں کسی نہ کسی طرح شامل تھے، یہ ایک بڑی کامیابی ہے، اس سے دہشتگردی کے خاتمے میں بہت مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگرد بڑا نقصان کرنا چاہتے تھے لیکن اس میں ناکام رہے، دہشتگرد اپنے ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکے، حملے کی تمام منصوبہ بندی افغانستان سے ہوئی، ساجد اللہ عرف شینا مرکزی ملزم ہے، یہ تحریک طالبان کا رکن رہا ہے، عطا تارڑ کی پریس کانفرنس کے دوران ساجد اللہ عرف شینا کا اعترافی بیان بھی دکھایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ساجداللہ عرف شینا نے پاکستان واپس آکر خودکش حملہ آور عثمان شنواری سے ملاقات کی، عثمان شنواری ننگر ہار افغانستان کا رہائشی تھا، عثمان شنواری کو خودکش جیکٹ لا کر دی گئی، اس نے جی الیون میں خودکش حملہ کیا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ اگست 2025 میں ساجد اللہ شینا اور محمد ذالی داد اللہ سے ملاقات کیلئے افغانستان گئے، فتنہ الخوارج کے دہشتگرد عبداللہ جان عرف ابوحمزہ سے بھی یہ شیگل ضلع میں ملے، شیگل سے یہ کابل پہنچے اور وہاں داد اللہ سے ملاقات ہوئی، داد اللہ نے انہیں راولپنڈی اسلام آباد میں خودکش حملے کے حوالے سے نورولی محسود کے احکامات پہنچائے۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ساجد اللہ اور داد اللہ ایک ایپ کے ذریعے آپس میں رابطے میں رہے، دہشت گردوں کا ٹارگٹ راولپنڈی اسلام آباد تھے، ساجد اللہ عرف شینا نے افغانستان جا کر داد اللہ سے ملاقات کر کے خودکش حملے کی پلاننگ کی، ساجد اللہ نے محمد ذالی اور کامران خان کو ہائر کیا۔

ان کا کہنا تھا ساجد اللہ نے 2015 میں تحریک طالبان افغانستان میں شمولیت اختیار کی، ساجد اللہ نے افغانستان کے اندر مختلف ٹریننگ کیمپس میں تربیت حاصل کی، 2023 میں ساجد اللہ نے داد اللہ نامی شخص سے ملاقات کی۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا حملے کی منصوبہ بندی خوارج سرغنہ نور ولی محسود نے اپنےکمانڈر داد اللہ کے ذریعے کی، داد اللہ اس وقت افغانستان میں موجود ہے، افغانستان میں موجود نور ولی محسود نے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین پاکستان میں “روف ٹاپ سولرانرجی” کے انقلاب کو آگے بڑھا رہا ہے، برطانوی میڈیا شیخ رشید کو عمرے کی اجازت دینے کا حکم معطل وفاقی آئینی عدالت کے بائیکاٹ پر پارٹی میں مشاورت کریں گے، سلمان اکرم راجا راولپنڈی اسلام آباد میں نئے سال سے ایک ہی وقت اذان اور باجماعت نماز کا اعلان سونے کی قیمت میں یکدم بڑا اضافہ متنازع ٹوئٹ کیس: ہادی علی چٹھہ اور پراسکیوٹر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا سولر پینل درآمد کرنے والا ملک بن گیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: منصوبہ بندی افغانستان افغانستان میں موجود حملے کی منصوبہ بندی ساجد اللہ عرف شینا اسلام ا باد کچہری نور ولی محسود نے ان کا کہنا تھا وزیر اطلاعات ساجد اللہ نے خودکش حملے خودکش حملہ سے ملاقات حملہ ا ور داد اللہ عطا تارڑ کی تھی

پڑھیں:

مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی

ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔

حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔ 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار