پشاور: ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں تیزی آ گئی ہے اور دہشت گردی کی اس کارروائی سے متعلق نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
سی ٹی ڈی کے مطابق تحقیقات میں ہلاک دہشت گردوں کے جسمانی اعضا حاصل کر لیے گئے ہیں اور انہیں ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لیے لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ تینوں حملہ آور ایک ہی موٹر سائیکل پر آئے تھے۔ کوہاٹ روڈ اور سول کوارٹر کے راستے سے گزرتے ہوئے یہ حملہ آور جائے وقوعہ پر پہنچے اور ایف سی ہیڈکوارٹر سے کچھ فاصلے پر اپنی موٹر سائیکل کھڑی کی۔
سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گردوں کے پاس کلاشنکوف اور 8 سے زائد دستی بم بھی موجود تھے۔ پولیس نے حملے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل بھی قبضے میں لے لی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایف سی ہیڈکوارٹر پر دہشت گردوں کی اس کارروائی میں تین اہلکار شہید اور 11 زخمی ہوئے، جبکہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں تینوں حملہ آور ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ تحقیقات حملے کے پس منظر اور دہشت گردوں کے ممکنہ نیٹ ورک کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایف سی
پڑھیں:
بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر میں اہلکار کی اندھا دھند فائرنگ، 2 اہلکار ہلاک، تیسرے کی حالت نازک
بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے سیکٹر ہیڈکوارٹر میں ایک اہلکار کی فائرنگ سے 2 اہلکار ہلاک جبکہ ایک شدید زخمی ہو گیا۔ واقعے کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ فائرنگ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ ضلع مالدہ کے 17 مائل سیکٹر ہیڈکوارٹر میں پیش آیا، جہاں بی ایس ایف کی 119ویں اور 71ویں بٹالین کے ہیڈکوارٹر قائم ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق 119ویں بٹالین سے تعلق رکھنے والے اہلکار شیوم مشرا نے آرام کرنے والے 71ویں بٹالین کے اہلکاروں پر اچانک اپنی سرکاری رائفل سے فائرنگ کر دی، جس سے کیمپ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
فائرنگ کے نتیجے میں 71ویں بٹالین کے 51 سالہ اجے کمار سنگھ، جو بھارتی ریاست بہار کے رہائشی تھے، اور 37 سالہ امباداس سریش درگو، جن کا تعلق مہاراشٹر سے تھا، موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کے ساتھی وکاس ورما شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی اہلکار کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
واقعے کے فوراً بعد بی ایس ایف کے اہلکاروں نے ملزم شیوم مشرا، جو ریاست چھتیس گڑھ کا رہائشی ہے، کو حراست میں لے لیا۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر فائرنگ کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ بی ایس ایف نے واقعے کی اندرونی انکوائری شروع کر دی ہے، جبکہ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا واقعہ کسی ذاتی تنازع، ذہنی دباؤ یا دیگر عوامل کا نتیجہ تھا۔
بھارتی سیکیورٹی فورسز میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ذہنی دباؤ، طویل ڈیوٹی اوقات، اندرونی تنازعات اور ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ جیسے واقعات متعدد بار رپورٹ ہو چکے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات فورسز میں نفسیاتی دباؤ اور فلاحی نظام سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کرتے ہیں، جس کے باعث اہلکاروں کی ذہنی صحت اور پیشہ ورانہ معاونت کے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں