Jasarat News:
2026-07-24@01:47:00 GMT

پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے  کا مقدمہ درج

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور میں گزشتہ روز فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پولیس نے واقعے کا مقدمہ سی ٹی ڈی میں درج کر لیا ہے۔

مقدمے کے مطابق دہشت گردی کی یہ کارروائی 3 موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے کی، جنہوں نے منصوبہ بندی کے ساتھ ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازے کو نشانہ بنایا۔

ایف آئی آر میں درج تفصیلات کے مطابق پہلے حملہ آور نے داخلی گیٹ پر پہنچتے ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں شدید دھماکا ہوا اور سیکورٹی لائن متاثر ہوئی۔ خودکش دھماکے کے فوراً بعد دیگر 2 حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہو گئے۔

پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں مسلح دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کی اور عمارت کے اندرونی حصوں تک پہنچنے کی کوشش کی، جس پر اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی۔

سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق جائے وقوع سے 27 سے زائد خالی خول اور دھماکے سے متعلق شواہد برآمد کیے گئے ہیں، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے بھجوایا گیا ہے۔

واقعے کا مقدمہ ایس ایچ او عبداللہ جلال کی مدعیت میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی درج ہے کہ دہشت گردوں کے اس حملے کا مقصد ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانا اور سرکاری املاک کو تباہ کرنا تھا۔

واقعے میں 3 بہادر جوان شہید جب کہ 11 زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق شہید ہونے والے اہلکاروں نے حملہ آوروں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور مزید بڑے نقصان کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ زخمی اہلکاروں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں طبی عملہ خصوصی نگہداشت میں رکھے ہوئے ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور تربیت یافتہ اور کسی منظم گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ پولیس اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جو نہ صرف حملے کے محرکات بلکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی نشاندہی کے لیے کام کر رہی ہے۔ شہر میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور ہیڈکوارٹر کے اطراف میں گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق گیا ہے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار