Jasarat News:
2026-07-24@05:06:38 GMT

پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے  کا مقدمہ درج

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور میں گزشتہ روز فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پولیس نے واقعے کا مقدمہ سی ٹی ڈی میں درج کر لیا ہے۔

مقدمے کے مطابق دہشت گردی کی یہ کارروائی 3 موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے کی، جنہوں نے منصوبہ بندی کے ساتھ ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازے کو نشانہ بنایا۔

ایف آئی آر میں درج تفصیلات کے مطابق پہلے حملہ آور نے داخلی گیٹ پر پہنچتے ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں شدید دھماکا ہوا اور سیکورٹی لائن متاثر ہوئی۔ خودکش دھماکے کے فوراً بعد دیگر 2 حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہو گئے۔

پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں مسلح دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کی اور عمارت کے اندرونی حصوں تک پہنچنے کی کوشش کی، جس پر اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی۔

سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق جائے وقوع سے 27 سے زائد خالی خول اور دھماکے سے متعلق شواہد برآمد کیے گئے ہیں، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے بھجوایا گیا ہے۔

واقعے کا مقدمہ ایس ایچ او عبداللہ جلال کی مدعیت میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی درج ہے کہ دہشت گردوں کے اس حملے کا مقصد ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانا اور سرکاری املاک کو تباہ کرنا تھا۔

واقعے میں 3 بہادر جوان شہید جب کہ 11 زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق شہید ہونے والے اہلکاروں نے حملہ آوروں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور مزید بڑے نقصان کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ زخمی اہلکاروں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں طبی عملہ خصوصی نگہداشت میں رکھے ہوئے ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور تربیت یافتہ اور کسی منظم گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ پولیس اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جو نہ صرف حملے کے محرکات بلکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی نشاندہی کے لیے کام کر رہی ہے۔ شہر میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور ہیڈکوارٹر کے اطراف میں گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق گیا ہے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار