اسلام آباد کچہری خودکش حملے سے متعلق گرفتار ملزم کا بیان،ہوشربا انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
اسلام آباد کچہری خودکش حملے سے متعلق گرفتار ملزم کا بیان،ہوشربا انکشافات WhatsAppFacebookTwitter 0 25 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ 11نومبر کو اسلام آباد میں کچہری خودکش حملے میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے خودکش حملہ آور کے ہینڈلر ساجد اللہ عرف شینا کا ویڈیو بیان بھی چلایا۔ وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے اور حملے میں ملوث مرکزی نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ آور اسلام آباد کے ہائی سیکیورٹی ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکا، جس کے باعث بڑا جانی نقصان ٹل گیا۔ ابتدائی ہدف اسلام آباد کے مضافاتی علاقے میں تھا جہاں حملہ آور نے دھماکا کیا۔عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ انٹیلی جنس بیورو اور کانٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملے کے صرف 48 گھنٹوں کے اندر 4 اہم ملزمانساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر کو گرفتار کر لیا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ مرکزی ملزم ساجد اللہ عرف شینا دہشت گرد نیٹ ورک کا ہینڈلر تھا، جو خودکش جیکٹ اور مواد لایا۔ وہ 2015 میں تحریک طالبان افغانستان میں شامل ہوا اور مختلف ٹریننگ کیمپس میں تربیت حاصل کرتا رہا۔ 2023 سے وہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے کمانڈر داد اللہ سے رابطے میں تھا۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود نے داد اللہ کے ذریعے کی، جو اس وقت افغانستان میں موجود ہے۔ ساجد اللہ کی آخری ملاقات اگست 2025 میں داد اللہ سے افغانستان میں ہوئی، اور پورا رابطہ ایک خفیہ ایپ کے ذریعے جاری رکھا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ساجد اللہ، محمد ذالی اور کامران خان افغانستان کے علاقے شیگل میں فتنہ الخوارج کے کمانڈر عبداللہ جان عرف ابو حمزہ سے بھی ملے، جس کے بعد کابل میں داد اللہ نے انہیں راولپنڈی اور اسلام آباد میں خودکش حملوں کا ٹارگٹ دیا خودکش حملہ آور کی شناخت عثمان شنواری کے نام سے ہوئی، جو ننگرہار افغانستان کا رہائشی تھا۔
اسے پاکستان پہنچنے کے بعد جیکٹ اور دھماکا خیز مواد فراہم کیا گیا، جس نے جی-11 میں خودکش دھماکا کیا۔وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ یہ پورا نیٹ ورک افغانستان سے چل رہا تھا اور ہمارے پاس اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ گرفتار ملزمان نے حملے کے اہم پہلوں کا اعتراف بھی کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے IB اور CTD کی کامیاب کارروائی کو سراہا، جبکہ وزیر اطلاعات نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج مکمل طور پر متحرک ہے۔انہوں نے شہریوں کو یقین دلایا کہ سیکیورٹی ادارے پوری طرح الرٹ ہیں اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات جاری رہیں گے۔پریس کانفرنس کے دوران ساجد اللہ عرف شینا کا اعترافی ویڈیو بیان بھی میڈیا کو دکھایا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجمعیت علما اسلام (ف)نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا جمعیت علما اسلام (ف)نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا اسرائیلی وزیراعظم نے سکیورٹی خدشات پر اپنا بھارت کا دورہ منسوخ کردیا دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کی طبیعت ناساز، اسپتال منتقل اسحاق ڈار سے ایرانی مشیر علی لاریجانی کی ملاقات، باہمی تعاون کے فروغ کا عزم اسلام آباد کچہری حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود نور ولی محسود نے کی تھی: وزیر اطلاعات شیخ رشید کو عمرے کی اجازت دینے کا حکم معطلCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔