وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد کچہری کے باہر ہونے والے خودکش حملے کی منصوبہ بندی کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود نے افغانستان میں بیٹھ کر کی تھی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے بتایا کہ 11 نومبر کو وفاقی دارالحکومت میں بڑا سانحہ رونما ہونے کی کوشش کی گئی، اور تحقیقات سے ثابت ہوا کہ اس حملے کے تمام روابط افغانستان سے جا ملتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی ایجنسیاں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پاک فوج مکمل طور پر الرٹ ہیں۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ حملے کی تحقیقات میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ خودکش حملہ آور کے پہلے ٹارگٹ کی نشاندہی اسلام آباد کے مضافات سے ہوئی۔ آئی بی اور سی ٹی ڈی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر سمیت چار دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔
عطا تارڑ کے مطابق گرفتار ہینڈلر ساجد اللہ عرف شینا خودکش حملہ آور اور جیکٹ کو اسلام آباد لایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور افغانستان کا رہائشی تھا اور گرفتار ملزمان مختلف انداز میں اس نیٹ ورک کا حصہ تھے۔
پریس کانفرنس کے دوران ساجد اللہ عرف شینا کا اعترافی ویڈیو بیان بھی دکھایا گیا۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ شینا پاکستان آنے کے بعد خودکش حملہ آور عثمان شنواری سے ملا، جو ننگرہار افغانستان کا رہنے والا تھا، اور اسی نے جی الیون میں حملہ کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ساجد اللہ اور محمد ذالی نے 2025 میں افغانستان جا کر داد اللہ سے ملاقات کی۔ دہشت گرد عبداللہ جان عرف ابوحمزہ سے بھی ان کی ملاقات ہوئی، جس کے بعد وہ کابل پہنچے جہاں داد اللہ نے نورولی محسود کے حملے سے متعلق احکامات پہنچائے۔
عطا تارڑ کے مطابق ساجد اللہ 2015 میں تحریک طالبان افغانستان میں شامل ہوا اور مختلف ٹریننگ کیمپس میں تربیت حاصل کی۔ دہشت گردوں کا ٹارگٹ راولپنڈی اور اسلام آباد تھے جبکہ پورا نیٹ ورک ایک خفیہ ایپ کے ذریعے رابطے میں تھا۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ اس خودکش حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود نورولی محسود نے اپنے کمانڈر داد اللہ کے ذریعے کی، جو ابھی بھی افغانستان میں سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بڑی پیشرفت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: افغانستان میں اسلام ا باد ساجد اللہ حملہ ا ور بتایا کہ عطا تارڑ

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار