اسلام آباد میں 11 نومبر کے خودکش حملے کی ساری کہانی اب منظر عام پر آ گئی ہے، جب حکومت نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ محض ایک واردات نہیں بلکہ سرحد پار بیٹھے منظم دہشت گرد نیٹ ورک کا حصہ تھا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق حملہ آور کو خودکش جیکٹ پشاور کے قبرستان سے لے کر گڑ کی بوری میں چھپا کر اسلام آباد تک پہنچایا گیا، جبکہ اس پورے آپریشن کی منصوبہ بندی اور نگرانی افغانستان میں ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت کر رہی تھی۔ اس انکشاف نے پاکستان میں دہشتگردی کے پس پردہ جال اور بین الاقوامی تعلقات کے خطرناک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس پر 11 نومبر کو ہونے والے خودکش حملے کے مبینہ سہولت کار ساجد اللہ عرف شینا نے بتایا کہ خودکش جیکٹ پشاور کے اخوند بابا قبرستان کے قریب سے حاصل کی گئی اور اسے گڑ کی بوری میں چھپا کر وفاقی دارالحکومت لایا گیا۔ وہاں سے نالے کے ذریعے حملہ آور تک پہنچائی گئی۔

منظم نیٹ ورک کے تحت حملہ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ یہ حملہ محض ایک واردات نہیں بلکہ سرحد پار بیٹھے دہشتگردوں کے منظم نیٹ ورک کا حصہ تھا۔ انٹیلی جنس بیورو اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے مشترکہ کارروائی کے دوران ٹی ٹی پی سے وابستہ چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔

افغانستان سے ہدایات

اعترافی بیان میں ساجد اللہ نے بتایا کہ وہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کمانڈر داد اللہ کے رابطے میں تھا، جس نے ٹیلی گرام کے ذریعے اسلام آباد میں حملے کی ہدایت دی۔ داد اللہ نے خودکش بمبار عثمان عرف ’قاری‘ کی تصاویر بھی بھیجی تاکہ وہ اسے پاکستان میں وصول کرے۔

حملے کی منصوبہ بندی اور نگرانی

ابتدائی تفتیش کے مطابق حملہ پاکستان میں موجود ایک آپریشنل سیل کے ذریعے کیا گیا، مگر منصوبہ بندی اور نگرانی افغانستان میں ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت کرتی رہی۔ مرکزی کمانڈر سعید الرحمان عرف داد اللہ نے ٹیلی گرام ایپ کے ذریعے ہدایات جاری کیں۔

حملے کے محرکات اور گرفتاریوں کے نتائج

عطا تارڑ نے بتایا کہ سہولت کار اور رابطہ کاروں کی گرفتاری سے نہ صرف مزید دہشتگرد کارروائیوں کو روکا گیا بلکہ مستقبل میں ایسے حملے روکنے کے لیے اہم معلومات بھی حاصل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق میں پورے نیٹ ورک کی ساخت اور طریقہ کار بے نقاب ہوا۔

ساجد اللہ کی پس منظر کہانی

وفاقی وزیر کے مطابق ساجد اللہ 2015 میں تحریک طالبان افغانستان میں شامل ہوا، افغانستان کے مختلف تربیتی کیمپس میں تربیت حاصل کی، اور 2023 میں داد اللہ سے متعارف کرایا گیا۔

عطا تارڑ نے کہا کہ یہ حملہ کسی ایک مقام تک محدود نہیں تھا اور دہشتگرد پہلے بھی ایک بڑی کارروائی کی کوشش کر چکے تھے جو ناکام ہوئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید انکشافات اور گرفتاریوں کے امکانات موجود ہیں، تاکہ پاکستان میں بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ حملوں کی کڑی نگرانی کی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان میں پاکستان میں اسلام آباد ساجد اللہ عطا تارڑ کے ذریعے داد اللہ ٹی ٹی پی حملے کی نیٹ ورک

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے