بنوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی؛ بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے 22 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
بنوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے 22 دہشت گرد ہلاک کردیے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ضلع بنوں میں سکیورٹی فورسز نے 24 نومبر کو کارروائی کی، جہاں بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد موجود تھے۔
آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 22 خوارج جہنم واصل کر دیے گئے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق کارروائی کے بعد کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی روپوش بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگرد کو گرفتار کیا یا ٹھکانے لگایا جا سکے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت فیڈرل ایپکس کمیٹی کے وژن عزمِ استحکام کے تحت پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشتگردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی سرپرستی یافتہ دہشتگردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔