معروف اسلامی تنظیم دہشت گرد قرار؛ صدر ٹرمپ نے ایگزیکیٹو آرڈر پر دستخط کردیئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اخوان المسلمین کی کچھ شاخوں کو دہشت گرد قرار دینے کا عمل شروع کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایگزیکیٹو آرڈر پر دستخط کردیئے جس میں بعد وفاقی تحقیقاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مسلم برادر ہڈ کے کچھ دھڑوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے باضابطہ عمل کا آغاز کریں۔
ایگزیکٹو آرڈر میں حکم دیا گیا ہے کہ 30 دن کے اندر وزرائے خارجہ اور خزانہ ایک مشترکہ رپورٹ پیش کریں گے جس میں ان شاخوں کا جائزہ شامل ہوگا۔
اس کے 45 دن بعد متعلقہ محکمے امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ اور انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت حتمی کارروائی مکمل کریں گے۔
اس حکم نامے میں خاص طور پر اخوان المسلمین (Muslim Brotherhood) کی لبنان، اردن اور مصر کی شاخوں کا نام لیا گیا ہے۔ یہ اقدام امریکی خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حکم نامے کے تحت مسلم برادر ہُڈ تنظیم کی ان شاخوں کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم کی کیٹیگری میں رکھا گیا۔
علاوہ ازیں اس تنظیم کی ان شاخوں کو خصوصی طور پر درجہ بندی کیے گئے عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔
دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس تنظیم نے 1928 میں مصر میں قیام کے بعد ایک بین الاقوامی نیٹ ورک میں تبدیل ہو چکا ہے جس کی متعدد شاخیں ’’تشدد اور خطے میں عدم استحکام‘‘ کا باعث بنتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گیا ہے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔