اسٹارلنک کے عام صارف بھی انجانے میں اسپیس ایکس کے مارس مشن کے معاون
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس کا استعمال روزمرہ معمول کے طور پر کرتے ہیں، مگر بہت کم صارفین اس حقیقت سے واقف ہیں کہ صرف ایک ویب پیج کھولنے سے بھی وہ اسپیس ایکس کے طویل المدتی خلائی منصوبوں خصوصاً مریخ مشن کی فنڈنگ میں حصہ ڈال رہے ہوتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بظاہر یہ بات حیرت انگیز لگتی ہے، لیکن درحقیقت اسٹارلنک کی کاروباری حکمت عملی اور اسپیس ایکس کی مجموعی پالیسی ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑی ہوئی ہیں کہ صارفین کے معمولی اقدامات بھی خلائی تاریخ کی بڑی پیش رفتوں میں کردار ادا کر جاتے ہیں۔
اسٹارلنک کے ہر صارف سے وصول کی جانے والی ماہانہ فیس نہ صرف کمپنی کے انٹرنیٹ نظام کو چلانے میں استعمال ہوتی ہے بلکہ ایک حصہ بالواسطہ اسپیس ایکس کے بڑے خلائی منصوبوں تک بھی پہنچتا ہے۔
چونکہ اسٹارلنک اور اسپیس ایکس ایک ہی کارپوریٹ ڈھانچے کا حصہ ہیں، اس لیے اسٹارلنک کی ترقی، منافع اور آپریشنل آمدنی اسپیس ایکس کے اُس بڑے مالیاتی پول میں شامل ہو جاتی ہے جو کمپنی مستقبل کی خلائی ٹیکنالوجی پر خرچ کرتی ہے۔ انہی منصوبوں میں اسپیس ایکس کا تاریخی اسٹار شپ پروگرام اور مریخ تک رسائی کا خواب بھی شامل ہے جسے کمپنی اپنی سب سے بڑی سائنسی اور تکنیکی کوشش قرار دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ عمل کچھ یوں ہوتا ہے کہ صارف سب سے پہلے اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس کے لیے ماہانہ ادائیگی کرتا ہے۔ یہ رقم اسٹارلنک کے سیٹلائٹ سسٹم کو چلانے، بڑھانے اور دنیا کے دور دراز علاقوں تک انٹرنیٹ پہنچانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
جب کمپنی آپریشنل اخراجات پورے کر لیتی ہے تو بچ جانے والے منافع اور مجموعی آمدنی کو اسپیس ایکس کے دیگر منصوبوں پر منتقل کیا جاتا ہے۔ اس مالی تعاون کی بنیاد پر اسپیس ایکس ہائی ٹیک راکٹ، خلائی جہاز اور مریخ مشن جیسی مہنگی ترین ٹیکنالوجیز کی تحقیق میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔
اس ترتیب کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ صارف خواہ صرف خبریں پڑھ رہا ہو، سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہو یا عام براؤزنگ کر رہا ہو، اصل میں وہ ایک ایسی کارپوریشن کی ترقی میں اپنا حصہ دے رہا ہوتا ہے جو انسان کو دوسری دنیا تک لے جانے کے مشن پر کام کر رہی ہے۔
اسپیس ایکس اور اس کے پروجیکٹس کے مستقبل کا بہت بڑا انحصار اسی مالیاتی ڈھانچے پر ہے، جس کے بنیادی ستون دنیا بھر میں پھیلے ہوئے عام صارف ہیں۔
مختصر یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اسٹارلنک استعمال کرنے والا ہر فرد بظاہر ایک انٹرنیٹ کنکشن کا خریدار ہوتا ہے، مگر حقیقت میں وہ اسپیس ایکس کے اس خواب میں شریک ہوتا ہے جو مریخ پر انسانی قدم رکھنے کی تیاریوں کو حقیقت میں بدلنے کی سمت بڑھ رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہی مربوط مالی نظام آنے والے برسوں میں خلائی تحقیق اور بین سیاروی سفر کے نئے باب رقم کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسپیس ایکس کے ہوتا ہے رہا ہو
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔