برطانیہ میں ایک لاکھ سے زائد کاریں غائب، جدید ٹیکنالوجی نے چوروں کا راستہ آسان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
برطانیہ میں گاڑیوں کی چوری کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق گاڑیوں کی چوری کے حوالے سے تازہ اعداد و شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ برس ایک لاکھ سے زیادہ کاریں ملک بھر سے غائب ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق 2024ء کے دوران اوسطاً ہر روز لگ بھگ 320 گاڑیاں چوری ہوئیں، جس نے حکام اور گاڑی مالکان دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اعداد و شمار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ جدید گاڑیوں میں نصب بغیر چابی اسٹارٹ ہونے والی ٹیکنالوجی تیزی سے بڑھتے چوری کے رجحان کی سب سے بڑی وجہ بنی ہے۔ چور الیکٹرانک ڈیوائسز کے ذریعے کار کی چابی کا سگنل اٹھا کر چند منٹ میں گاڑی کو فعال کرتے ہیں اور دیدہ دلیری سے فرار ہوجاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی ٹیکنالوجی جہاں سہولت فراہم کر رہی ہے وہیں جرائم پیشہ افراد کے لیے گاڑیاں چرا کر غائب کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا چکی ہے۔
مسلسل بڑھتے ہوئے ان واقعات کے بعد برطانوی حکومت نے سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے قانون کے تحت ایسی الیکٹرانک ڈیوائسز رکھنا یا ان کی ترسیل اور شیئرنگ جرم قرار دے دی گئی ہے، جس پر 5 سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔
حکام کے مطابق ان سخت اقدامات کا مقصد گاڑیوں کی چوری میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ روکنا اور اس جرم میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کو مؤثر بنانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
ویب ڈیسک:کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی، ریسکیو نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا۔
چیئرمین ریلوے نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی جو 7 روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔
ترجمان ریلوے کے مطابق کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں خانیوال کے قریب اچانک آگ لگ گئی جس پر پاور وین کو ٹرین سے الگ کردیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
آگ نے دیکھتے دیکھتے پوری پاور وین کو لپیٹ میں لے لیا، اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا جس کے بعد ٹرین کو راولپنڈی روانہ کردیا گیا۔
چیئرمین ریلویز نے پاور وین میں آگ لگنے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سات روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔