لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف یوٹیوبر عمار خان یاسر نے پوڈ کاسٹ میں انکشاف کیا کہ نہیں میزان بینک کے آفیشل نمبر سے کال موصول ہوئی، جس میں کال کرنے والا اس کے بینک اکاؤنٹ کی مکمل تفصیلات بتا کر OTP مانگ کر اکاؤنٹ خالی کرنے کی کوشش کرتا رہالیکن میں  نے کال ریکارڈ کی اور ویڈیو کے ذریعے عوام کو خبردار کیا۔

تفصیلات کے مطابق عمار خان یاسر کا کہناتھا کہ ویڈیو کو 20 لاکھ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں، جس کے بعد متعدد لوگوں نے رابطہ کرکے بتایا کہ وہ بھی ایسے ہی فراڈ کا شکار ہو چکے ہیں۔ کئی افراد کے 10 ہزار سے 3 لاکھ روپے جبکہ ایک شخص کے 16 لاکھ روپے تک نکال لیے گئے۔ فراڈ کرنے والوں کے پاس میری اہلیہ کا ATM کارڈ نمبر، تفصیلات اور دیگر معلومات پہلے سے موجود تھیں، حالانکہ یہ کارڈ کبھی کسی دکان، POS مشین یا آن لائن استعمال نہیں ہوا۔

چیچہ وطنی، ضمنی انتخابات میں شادی والے دن ووٹ ڈالنے والے دُولہے کے ولیمے میں ن لیگی امیدوار کی انٹری، سب کو حیران کردیا

ان کا کہناتھا کہ یہ ڈیٹا کہیں نہ کہیں سے بینکنگ سسٹم کے اندر سے لیک ہوا ہے۔ بینک خود ایسا نہیں کرتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈیٹا سکیمرز تک پہنچ رہا ہے  اور یہی اصل خطرہ ہے۔واقعے کے بعد میزان بینک ہیڈکوارٹر کی جانب سے مجھ سے رابطہ کیا گیا، اور بتایا گیا کہ معاملہ سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور متعلقہ برانچ اس سے مزید معلومات لے گی تاکہ عوام کو بہتر طریقے سے آگاہ کیا جا سکے۔

عمار کا کہناتھا کہ میں نے بینک حکام سے درخواست کی کہ ایک سائبر سیکیورٹی ماہر بھی فراہم کیا جائے تاکہ پوڈکاسٹ کے ذریعے لوگوں کو اس فراڈ کے طریقۂ کار اور حفاظتی اقدامات سے آگاہ کیا جا سکے۔

فیروز خان نے علیزے سے علیحدگی کے معاملے پر خاموشی توڑ دی

سکیمرز سے بچنے کا طریقہ 

سکیمرز بینک کے آفیشل نمبرز تک spoof کر لیتے ہیں۔کال کتنی ہی اصلی لگے اپنا CNIC، ATM تفصیلات یا OTP کبھی بھی نہ دیں۔بینک کبھی بھی OTP نہیں مانگتا۔آپ کے نمبر پر آنے والا ہر کوڈ صرف آپ کی ذاتی سکیورٹی کے لیے ہوتا ہے۔

کل میں نے ایک ویڈیو بنائی تھی جس میں بتایا تھا کہ مجھے میزان بینک کے آفیشل نمبر سے کال آئی، اور کال کرنے والا میرے بینک اکاؤنٹ کی ساری تفصیلات بتا کر مجھ سے OTP مانگ کر صفایا کرنا چاہتا تھا ، اسے بینک اکاؤنت کی ساری تصیلات پہلے سے پتا تھی
میں نے وہ کال ریکارڈ کی، ویڈیو بنائی… pic.

twitter.com/d7N5FYgy9N

— Ammar Khan Yasir (@ammarkhanyasir) November 24, 2025

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف