Nawaiwaqt:
2026-06-03@06:38:03 GMT

بابراعظم نے ویرات کوہلی کا ریکارڈ برابر کردیا

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

بابراعظم نے ویرات کوہلی کا ریکارڈ برابر کردیا

قومی ٹیم  کے مایہ نا بیٹر بابراعظم نے ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ نصف سنچریاں بنانے کا بھارت کے سابق کپتان ویرات کوہلی کا ریکارڈ برابر کردیا۔راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں سہ فریقی سیریز کے دوران زمبابوے کے خلاف میچ میں بابراعظم نے 52 گیندوں پر7 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 74 رنز بنائے  یہ ان کے کیریئر کی 38 ویں نصف سنچری ہے۔ اس سے قبل بھارت کے سابق کپتان ویرات کوہلی نے سب سے زیادہ 38 نصف سنچریوں کا ریکارڈ بنایا تھا۔بابراعظم نے 134 میچوں کی 127 اننگز میں 38 نصف سنچریاں بنائیں اورانہیں ٹی20 کرکٹ میں سب سے زیادہ 4 ہزار 392 رنزبنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور اس کے علاوہ 3 سنچریوں کے ساتھ 50 یا اس سے زائد رنز کی سب سے زیادہ اننگز کھیلنے کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں۔ویرات کوہلی نے 125 میچوں کی 117 اننگز میں 38 نصف سنچریاں بنائی ہیں اور صرف ایک سنچری ہے، تیسرے نمبر پر روہت شرما نے 32 نصف سنچریاں بنا رکھی ہیں، محمد رضوان 30 نصف سنچریوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں جب کہ آسٹریلیا کے سابق اوپنر ڈیوڈ وارنر 28 نصف سنچریوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔بابراعظم نے ٹی20 کرکٹ میں سب سے زیادہ 464 چوکے لگانے کا ریکارڈ بھی بنایا ہے، اس فہرست میں دوسرے نمبر پر آئرلینڈ کے پال اسٹرلنگ ہیں، جنہوں نے 430 چوکے مارے ہیں، تیسرے نمبر روہت شرما ہیں، جن کے ریکارڈ میں 383 چوکے شامل ہیں، ویرات کوہلی 363 کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: نصف سنچریاں ویرات کوہلی سب سے زیادہ کا ریکارڈ کے ساتھ

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟