ٹی20 کرکٹ، بابراعظم نے ویرات کوہلی کا ریکارڈ برابر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
راولپنڈی:(نیوزڈیسک)بابراعظم نے ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ نصف سنچریاں بنانے کا ویرات کوہلی کا ریکارڈ برابر کردیا۔ سہ فریقی سیریز کے دوران زمبابوے کے خلاف میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 5 وکٹوں پر195 رنز بنائے، جس میں اوپنر صاحبزادہ فرحان اور بابراعظم نے نصف سنچریاں بنائیں اور ٹیم کو بڑے اسکورتک رسائی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
صاحبزادہ فرحان نے سیریز میں مسلسل دوسری نصف سنچری بنائی اور41 گیندوں پر 4 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے 63 رنز کی اننگز کھیلی، فخر زمان نے اختتامی اوورز میں صرف 10 گیندوں کا سامنا کیا تاہم ایک چوکا اور 3 بلند وبالا چھکے رسید کرتے ہوئے آؤٹ ہوئے بغیر 27 رنز بنائے۔
بابراعظم نے 52 گیندوں پر7 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 74 رنز بنائے تاہم یہ ان کے کیریئر کی 38 ویں نصف سنچری ہے، اس سے قبل بھارت کے سابق کپتان ویرات کوہلی نے سب سے زیادہ 38 نصف سنچریوں کا ریکارڈ بنایا تھا۔
بابراعظم نے 134 میچوں کی 127 اننگز میں 38 نصف سنچریاں بنائیں اورانہیں ٹی20 کرکٹ میں سب سے زیادہ 4 ہزار 392 رنزبنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور اس کے علاوہ 3 سنچریوں کے ساتھ 50 یا اس سے زائد رنز کی سب سے زیادہ اننگز کھیلنے کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں۔
ویرات کوہلی نے 125 میچوں کی 117 اننگز میں 38 نصف سنچریاں بنائی ہیں اور صرف ایک سنچری ہے، تیسرے نمبر پر روہت شرما نے 32 نصف سنچریاں بنا رکھی ہیں، محمد رضوان 30 نصف سنچریوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں، آسٹریلیا کے سابق اوپنر ڈیوڈ وارنر 28 نصف سنچریوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔
بابراعظم نے ٹی20 کرکٹ میں سب سے زیادہ 464 چوکے لگانے کا ریکارڈ بھی بنایا ہے، اس فہرست میں دوسرے نمبر پر آئرلینڈ کے پال اسٹرلنگ ہیں، جنہوں نے 430 چوکے مارے ہیں، تیسرے نمبر روہت شرما ہیں، جن کے ریکارڈ میں 383 چوکے شامل ہیں، ویرات کوہلی 363 کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نصف سنچریاں ویرات کوہلی سب سے زیادہ کا ریکارڈ کے ساتھ
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔